Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Eik Qurani Aayat

Urdu · 4 min

ایک قرآنی آیت: آرنلڈ ٹوائن بی نے جو بات کہی ہے، وہ صرف ایک مؤرخ کا نقطۂ نظر نہیں ہے؛ وہ خود فطرت کا ایک اٹل خانون ہے جس کو ایک مؤرخ نے تاریخ کے مطالعے کے ذریعے دریافت کیا ہے۔ فطرت کا یہ قانون قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے اذن سے بڑی جماعتوں پر غالب آئیں ہیں، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ سورہ نمبر 2، آیت 249: "How often has a small group revealed against a large group by the sanction of God, and God is with the people of patience? " اس آیت میں "اذن" سے مراد فطرت کا وہ قانون ہے جو خدا نے انسانوں کے درمیان ابدی طور پر قائم کر رکھا ہے۔

اس خانون کو قرآن میں دوسری جگہ "عسر" کے ساتھ "یسر" اور "یسر" کے ساتھ "عسر الانشراح" کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ زیرِ بحث موضوع کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس گروہ کو عددی برتری حاصل ہو، وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتا ہے کہ محنت کے بغیر ہی اس کو سب کچھ حاصل ہو جائے گا۔ یہ نفسیات اس کے اندر ذہنی اور عملی جمود پیدا کر دیتی ہے، یہاں تک کہ پوری قوم آرام طلبی اور کاہلی کا شکار ہو جاتی ہے۔

وہ کوئی بڑا کارنامہ انجام دینے کے قابل نہیں رہتی۔ اس کے برعکس، جو گروہ عددی اور سماجی حیثیت سے اپنے کو کمتر محسوس کرے، وہ عین فطری قانون کے تحت زیادہ فعال ہو جاتا ہے۔ اس کا یہ احساس کہ وہ برتر طاقت کی طرف سے چیلنج کی زد میں ہے، اس کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ محنت کرے۔ وہ اپنے وسائل کو زیادہ بہتر اور زیادہ منظم طور پر استعمال کرے۔

وہ پیش آمدہ مسائل کا برتر حل، یعنی superior solution، دریافت کرے۔ اس قسم کی مسلسل سوچ اس کے اندر وہ چیز پیدا کر دیتی ہے جس کو نفسیاتی علماء "دماغی طوفان" یعنی brainstorming سے تعبیر کرتے ہیں۔ اکثریتی فرقے کے حالات اگر اس کے افراد کو ذہنی جمود میں مبتلا کر دیتے ہیں، تو اقلیتی فرقے کے حالات اس کے افراد کے اندر تخلیقی فکر، یعنی creative thinking، پیدا کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر تاریخ کے تمام بڑے بڑے تہذیبی واقعات ہمیشہ اقلیتی گروہ کے ذریعے ظہور میں آئے۔

اکثریتی گروہ نے کبھی کوئی بڑا تاریخی واقعہ انجام نہیں دیا۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 251۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.