Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Islam ka Role

Urdu · 7 min

اسلام کا رول بہتر دنیا کی تعمیر میں اسلام کا ایک مستقل رول ہے۔ یہ رول اسلام کے ابتدائی زمانے سے لے کر بعد کے زمانوں تک جاری رہا، جاری رہا ہے، اور مسلسل جاری رہے گا۔ یہاں مختصر طور پر اس کے چند پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ نمبر 1: جب اسلام کا ظہور ہوا تو قدیم عرب میں قبائلی نظام تھا۔

ان کا کلچر انتقام کے اصول پر قائم تھا۔ ان کے یہاں جب اس قسم کا کوئی ایک واقعہ پیش آتا تو فریق ثانی کے لیے ضروری ہو جاتا کہ وہ اس کا انتقام لے۔ اس کے بعد انتقام کا انتقام لینے کی صورت میں یہ تباہ کن سلسلہ برابر جاری رہتا۔ یہ صورتحال قدیم عربوں کی ترقی میں مستقل رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔

اسلام نے انتقام کلچر کی جگہ معافی کلچر کو رواج دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عربوں کے لیے ہر قسم کی ترقی کا دروازہ کھل گیا۔ نمبر 2: موجودہ زمانے میں بھی اس قسم کی کئی چیزیں ہیں جہاں اسلام اپنا مثبت رول ادا کر سکتا ہے۔ مثلاً انفرادی آزادی بہت قیمتی چیز ہے، مگر جدید مغربی تہذیب نے آزادی کو خیر مطلق یعنی سمم بونم قرار دے کر اس کو لامحدود حد تک وسیع کر دیا۔

اس لامحدود آزادی کے بے شمار نقصانات ہیں جن کو آج دنیا مختلف صورتوں میں بھگت رہی ہے۔ تمام اہل دانش یہ مانتے ہیں کہ آزادی بلاشبہ ایک خیر ہے، مگر لامحدود آزادی شر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جدید تہذیب یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آزادی کو محدود کس طرح کیا جائے اور کس کے مقابلے میں کیا جائے۔ یہاں اسلام یہ رہنمائی دیتا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی آزادی کو خدا کے مقابلے میں محدود بنائے۔

انسان کے مقابلے میں آزادی کو محدود کرنا بظاہر ناقابلِ فہم ہے، مگر خدا کے مقابلے میں آزادی کا تصور فوراً قابلِ فہم ہو جاتا ہے۔ اس نوعیت کی ایک کامیاب مثال اس سے پہلے سامنے آ چکی ہے۔ پچھلے 5000 سال سے یورپ فلسفیوں کے اس تصور سے مشہور تھا کہ انسانی عقل حقیقتِ کلی تک پہنچ سکتی ہے۔ مگر اس رخ پر ہزاروں سال کی کوشش کسی مثبت نتیجے تک نہیں پہنچی۔

اسلام نے اس معاملے میں یہ رہنمائی دی کہ عقلِ انسانی صرف جزئی حقیقت کا احاطہ کر سکتی ہے، وہ کلی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی۔ وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا سورہ نمبر 17 آیت 85۔ یعنی اس محدودیت کی بنا پر حقیقتِ کلی کو عقل کے ذریعے دریافت کرنے کی کوشش ایک بے فائدہ کوشش ہے، جو کبھی کسی واقعی نتیجے تک پہنچنے والی نہیں۔ قرونِ وسطیٰ میں جب اسلامی فکر یورپ میں پھیلا تو اس نے تاریخ میں پہلی بار یہ ذہن بنایا کہ سائنسی ریسرچ کے دائرے کو محدود رہنا چاہیے۔

اب یورپ کے اہل علم نے اشیاء کے معنوی پہلو کو اس کے مادی پہلو سے الگ کر دیا۔ وہ معنوی پہلو کو چھوڑ کر چیزوں کے مادی پہلو پر ریسرچ کرنے لگے۔ اس طرح اچانک سائنسی تحقیق بے فائدہ کوشش کے میدان سے نکل کر نتیجہ خیز عمل کے میدان میں داخل ہو گئی۔ علمِ کثیر کو چھوڑ کر علمِ قلیل پر راضی ہونے کا یہی اصول تھا جو جدید سائنسی تہذیب کو وجود میں لانے کا سبب بنا۔

اسی طرح جدید مغرب ایک اور سحر میں مبتلا ہے۔ یہ لامحدود آزادی کا سحر ہے، مگر دوبارہ فطرت کا قانون اس کے لیے ایک مستقل رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ وہ یہ کہ لامحدود آزادی کے تصور کے تحت کبھی کوئی بہتر سماج نہیں بنایا جا سکتا۔ یہاں دوبارہ اسلام ایک عظیم رہنمائی دے رہا ہے۔

وہ یہ کہ انسان محدود آزادی پر راضی ہو جائے، کیونکہ موجودہ دنیا میں صرف یہی ممکن ہے۔ لامحدود آزادی کے تصور نے دنیا کو انارکی کا جنگل بنا دیا ہے۔ محدود آزادی کا اصول دنیا کو امن اور سکون کا سماج بنا سکتا ہے۔ یہ دوسرا اصول اسی طرح جدید دنیا میں ایک نیا انقلاب لا سکتا ہے، جس طرح پہلا اصول قدیم دنیا میں ایک عظیم انقلاب لایا تھا۔

وہ چیز جس کو زمانے کی تغیر پذیری کہا جاتا ہے، اس کے دو حصے ہیں: حقیقی تغیر اور اضافی تغیر۔ حقیقی تغیر یہ ہے کہ ماضی کے کسی غلط تصور کو غلط پا کر اسے چھوڑ دیا جائے۔ اس قسم کا تغیر اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے اسلام کی طرف واپسی کے ہم معنی ہے۔ اور جہاں تک اضافی تغیر کا سوال ہے، وہ ہمیشہ وقتی ہوتا ہے۔

حالات کے بدلنے کے ساتھ وہ خود بدل جاتا ہے۔ پہلے قسم کے تغیر کی مثال وہ توہمات ہیں جو قدیم زمانے میں انسانی سماج کے اندر رائج تھے۔ مثلاً بعض بیماریوں کو دیوتاؤں کے اثر کا نتیجہ سمجھنا۔ جدید دور نے اس عقیدے کو باطل ثابت کیا اور تمام بیماریوں کو میڈیکل سائنس کے تابع کر دیا۔

یہ اصول پیشگی طور پر اسلام میں موجود تھا۔ اس لیے یہ تغیر خود اسلام کے اصول کو از سرِ نو زندہ کرنے کے ہم معنی ہے۔ دوسرے قسم کے تغیر کی ایک مثال عورت اور مرد کے درمیان آزادانہ جنسی تعلق کا جدید نظریہ ہے۔ مگر سائنسی تحقیقات اس قسم کی آزادی کو غلط ثابت کر رہی ہیں۔

مثلاً اس طرح کے عمل کے نتیجے میں خطرناک بیماریوں کا پیدا ہونا۔ چنانچہ عملی تجربے کے بعد اب خود سیکولر حلقے میں اس کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ اس بنا پر یقینی ہے کہ اس معاملے میں دوبارہ اسلام کے اصول کو اختیار کر لیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام تغیر پذیر دنیا میں ایک غیر متغیر حقیقت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام تغیر پذیر دنیا میں ایک غیر متغیر حقیقت ہے۔ نظری تجزیہ اور عملی تجزیہ دونوں اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ کتاب تعمیر انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 246۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.