Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Adl-o-Insaaf

Urdu · 5 min

عدل و انصاف۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز 62 تا 101 ہجری، پانچویں خلیفہ راشد ہیں۔ آپ کے خادم ابو امیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز آپ کی اہلیہ سے کہا کہ مسور کی دال کھاتے کھاتے میرا برا حال ہو گیا ہے۔ خاتون نے جواب دیا: "تمہارے خلیفہ کا بھی روز کا کھانا یہی ہے۔

" آپ سے پہلے، آپ سے پہلے خلیفہ کی حفاظت کے لیے 100 سپاہی مقرر تھے۔ جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے سب کو دوسری سرکاری کاموں میں لگا دیا اور فرمایا: "دوسرے سرکاری کاموں میں لگا دیا اور فرمایا: میری حفاظت کے لیے قضا و قدر ہی کافی ہے۔ " یہ اس شخص کا حال تھا جس کی سلطنت کے حدود سندھ سے لے کر فرانس تک پھیلے ہوئے تھے۔ آپ کے خلاف کے، آپ کی خلافت کے زمانے کا واقعہ ہے کہ سمرقند کے باشندوں کا ایک وفد آیا۔

اس نے ایک فوجی سردار، قتیبہ بن مسلم باہلی کے بارے میں یہ شکایت کی کہ اسلامی قاعدے کے مطابق انہوں نے ہم کو پیشگی تنبیہ نہیں کی اور ہمارے شہر میں اچانک اپنی فوجیں داخل کر دیں۔ لہٰذا ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے۔ سمرقند کی فتح حضرت عمر بن عبدالعزیز سے پہلے ہوئی تھی اور اب اس پر 7 سال گزر چکے تھے، مگر آپ نے انصاف کے تقاضے کو پورا کرنا ضروری سمجھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عراق کے حاکم کو لکھا کہ سمرقند کے لوگوں کے مقدمے کی سماعت کے لیے ایک خصوصی قاضی مقرر کرے۔

عراق کے حاکم نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور جمعی بن حاضر الباہلی کو اس کا قاضی مقرر کیا۔ ان کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوا۔ دونوں فریق نے آزادانہ طور پر اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔ آخر میں قاضی نے سمرقند والوں کی شکایت کو درست قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ مسلمانوں کی فوج سمرقند کو چھوڑ کر باہر آ جائے اور اہلِ سمرقند کو ان کا خلا اور تمام دوسری چیزیں واپس کر دی جائیں۔

اس کے بعد اسلامی قاعدے کے مطابق مسلمانوں کا فوجی سردار ان کے سامنے ضروری شرطیں پیش کرے۔ اگر وہ تمام شرطوں کو ماننے سے انکار کر دیں تو پھر اس کے بعد ان سے جنگ کی جائے۔ اسلامی فوج اس وقت فاتحانہ حیثیت رکھتی تھی۔ اس نے چین جیسے، اس نے چین جیسے ملک کے بادشاہوں کو بھی ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا تھا۔

مگر جب قاضی نے اپنا فیصلہ سنایا تو اسلامی فوج کے سردار نے کسی بحث کے بغیر اس کو مان لیا۔ اس نے فوراً حکم دیا کہ پوری فوج سمرقند چھوڑ کر نکل آئے۔ تاہم اس پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی۔ سمرقند کے لوگوں نے جب دیکھا کہ مسلمان اس قدر بااصول اور انصاف پسند ہیں تو وہ حیران رہ گئے۔

اس سے پہلے انہوں نے کبھی ایسے بے لاغ انصاف کا تجربہ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ مسلم فوج کا آنا ان کے لیے رحمت کا آنا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی مرضی اور خوشی سے مسلم حکومت کو قبول کر لیا۔ وہ کہہ اٹھے: "خوش آمدید!

ہم آپ کے مطیع و فرمانبردار ہیں۔ " مرحبا سمعنا واطعنا فتوح البلدان للبلادری یہ واقعہ عدل و انصاف کا جو نمونہ پیش کر رہا ہے، اس کی مثال ساری تاریخ میں مشکل سے ملے گی۔ اس واقعے میں عدل و انصاف کا اصول اپنے آخری اعلیٰ مقام پر نظر آتا ہے۔ عدل بلاشبہ انسانی زندگی کی بلند ترین قدر ہے اور یہ واقعہ اس قدر کے اعتراف کی بلند ترین عملی مثال ہے۔

ہر دور میں تمام سوچنے والے انسانوں کا محبوب ترین مقصود یہ رہا ہے کہ وہ ایک ایسا انسانی نظام بنائیں جہاں حق کا غلبہ ہو، جہاں ہر ایک کو انصاف ملے، جہاں معاشی استحصال نہ ہو، جہاں ہر انسان کو عزت کی زندگی حاصل ہو، جہاں اعلیٰ انسانی قدروں کو فروغ ملے۔ اس قسم کا سماج بنانے کا دعویٰ تو بہت سے لوگوں نے کیا مگر عملی طور پر وہ اپنی کامل صورت میں صرف ایک بار قائم ہو سکا اور یہ اسلام کی ابتدائی تاریخ کے زمانے میں ہوا۔ اسلام کی پہلی جنریشن میں پیش آنے والا یہ واقعہ گویا تمام انسانیت کے لیے ایک نمونہ ہے۔ اب ہر دور کے انسانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس نمونے کو دیکھیں اور اس نمونے کی روش میں اپنی زندگی کا نظام بنائیں۔

کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 238۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.