Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Haqeeqat Pasandi

Urdu · 3 min

حقیقت پسندی: حضرت حسن، حضرت علی کی شہادت کے بعد خلیفہ مقرر ہوئے؛ وہ اسلامی تاریخ کے پانچویں خلیفہ تھے۔ انہیں تمام شرعی اور اخلاقی اصولوں کے مطابق خلافت پر قائم رہنے کا حق حاصل تھا، مگر جب انہیں خلافت ملی تو صورتحال یہ تھی کہ حضرت امیر معاویہ، جو اس وقت شام کے حاکم تھے، انہوں نے خلافت سے باقاعدہ بغاوت کر دی۔ خونِ عثمان کا بدلہ لینے کے نام پر انہوں نے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ساتھ کر لیا۔ حضرت حسن ابن علی نے حالات کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ 40,000 کی فوج ان کے ساتھ ہے۔

اسی طرح حضرت امیر معاویہ کے ساتھ بھی تقریباً اتنے ہی آدمی تھے۔ یہ دونوں فوجیں جوش و جذبے سے بھری ہوئی تھیں اور ایک دوسرے کے خلاف لڑنے کے لیے بے قرار تھیں، مگر حضرت حسن نے سوچا کہ یہ دونوں کے دونوں مسلمان ہیں۔ جنگ کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان آپس میں لڑیں۔ وہ قیمتی افراد جو اسلام کے جھنڈے کے نیچے اس لیے جمع ہوئے تھے کہ وہ دنیا سے شرک کا خاتمہ کریں، وہ خود اپنے آپ کو اور اسی کے ساتھ اسلامی تاریخ کو ختم کر ڈالیں گے۔

حضرت حسن کی حیثیت جائز خلیفہ اسلام کی تھی، جبکہ امیر معاویہ کی حیثیت یقینی طور پر باغی کی تھی۔ مگر حضرت حسن نے بجا طور پر یہ اندازہ لگایا کہ حضرت امیر معاویہ کسی قیمت پر جھکنے کے لیے تیار نہ ہوں گے۔ وہ ہر حال میں لڑائی کو جاری رکھیں گے، خواہ اس کا نتیجہ مسلم سپاہیوں کی عام بربادی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ حضرت حسن نے خود اپنے آپ کو جھکانے پر راضی کر لیا۔

مسلمانوں کو باہمی قتل و خون سے بچانے کے لیے انہوں نے ایک طرفہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ وہ امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو جائیں۔ یہ حقیقت پسندی کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ یہاں انسان حقیقت پسندی کی اعلیٰ ترین سطح پر نظر آتا ہے، وہ سطح جہاں انسان اپنے آپ کو حذف کر کے سوچ سکتا ہے۔ حضرت حسن نے اپنے آپ کو حذف کر کے سوچا۔

یہی وجہ ہے کہ وہ اتنا بڑا فیصلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو راضی کر سکے، جس کی کوئی دوسری مثال تاریخ میں مشکل سے ملے گی۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 237۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.