← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Awam aur Hakim ke darmiyan Qanuni Barabari
Urdu · 5 min
عوام اور حاکم کے درمیان خانونی برابری۔ حضرت علی ابن ابی طالب اسلام کے چوتھے خلیفہ تھے، انہیں غیر معمولی اقتدار حاصل تھا، مگر وہ لوگوں کے درمیان ایک عام انسان کی طرح رہتے تھے۔ نہ ان کا معیارِ زندگی دوسروں سے مختلف تھا، اور نہ ان کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ خانونی حقوق حاصل تھے۔ ترمذی، حاکم اور ابو نعیم نے حضرت علی ابن ابی طالب کا ایک واقعہ اس طرح نقل کیا ہے: حضرت علی کے پاس ایک زرا تھی، جو اتفاق سے کھوئی گئی۔
ایک روز وہ کوفہ کے بازار کی طرف گئے، انہوں نے دیکھا کہ ایک نصرانی زرا بیچ رہا ہے۔ قریب جا کر دیکھا تو یہ وہی زرا تھی جو ان سے کھوئی گئی تھی۔ حضرت علی اس وقت ممالک اسلامی کے حکمران تھے، وہ چاہتے تو اسی وقت زرا پر قبضہ کر سکتے تھے، مگر انہوں نے اپنے آپ کو خانون سے بالاتر نہ سمجھا۔ انہوں نے نصرانی سے کہا کہ یہ زرا میری ہے، تم اس کو لے کر قاضی کے پاس چلو، وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔
اس وقت مسلمانوں کے قاضی شریع تھے۔ انہوں نے دونوں بازار سے چل کر، چنانچہ دونوں بازار سے چل کر، قاضی شریح کے یہاں پہنچے۔ شریح نے بحیثیت قاضی کے پوچھا کہ امیرالمومنین، آپ کیا کہتے ہیں؟ حضرت علی نے کہا کہ یہ زرا میری ہے، اور مجھے واپس دلائی جائے۔
شریح نے نصرانی سے پوچھا کہ تم کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا کہ امیرالمومنین غلط بیانی کر رہے ہیں، یہ زرا میری ہے۔ قاضی شریع نے حضرت علی سے کہا کہ محض آپ کے دعوے کی بنا پر میں ایسا نہیں کر سکتا کہ زرا اس سے لے کر آپ کو دے دوں۔ آپ اپنے دعوے کے حق میں ثبوت لائیے۔
حضرت علی نے کہا کہ شریح کا مطالبہ درست ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے حق میں دو گواہ پیش کیے: ایک اپنے غلام قنبر کو، اور دوسرے اپنے لڑکے حسن کو۔ قاضی شریح نے کہا کہ میں قنبر کی گواہی کو تو مان رہا ہوں، مگر میں حسن کی گواہی کو نہیں مانتا۔ حضرت علی نے کہا کہ تم حسن کی گواہی نہیں مانتے، حالانکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسن اور حسین نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔
قاضی شریح نے کہا کہ وہ الگ چیز ہے۔ دنیاوی معاملات میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ والد کے حق میں اولاد کی گواہی معتبر نہیں۔ حضرت علی خلیفہ تھے، اور وہ قاضی کو معزول کرنے کا اختیار رکھتے تھے، مگر انہوں نے قاضی کے فیصلے کے آگے سر جھکا دیا اور زرا کے بارے میں اپنا مطالبہ واپس لے لیا۔ نصرانی یہ دیکھ کر حیران رہ گیا، وہ چیخ اٹھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ پیغمبروں کے احکام ہیں کہ امیرالمومنین ایک عام آدمی کی طرح قاضی کی عدالت میں آئے اور قاضی اس کے خلاف فیصلہ کرے۔
میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ پھر اس نے کہا کہ یہ زرا واقعتاً علی کی ہے۔ ایک بار وہ علی کے اونٹ سے گر گئی تھی، تو میں نے اس کو اٹھا لیا۔ اب حضرت علی نے وہ زرا اسی شخص کو دے دی، اور اس کو مزید 700 درہم عطا کیے۔
اس کے بعد وہ مسلمان ہو کر حضرت علی کے ساتھ رہا، یہاں تک کہ صفین کے معرکے میں شہید ہو گیا۔ حیات الصحابہ، الجز الاول، صفحہ 234 تا 235۔ یہ واقعہ اس اصول کی اعلیٰ ترین مثال ہے کہ حکمران، افراد، اور عام انسان دونوں قانون کی نگاہ میں برابر ہیں۔ قانون کی عدالت میں دونوں کو یکساں حاضر ہونا چاہیے، اور دونوں کے اوپر قانون کا فیصلہ یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔
کتاب تعمیر انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 235۔