Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Be Gharzi

Urdu · 4 min

بے غرضی۔ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں قحط پڑا، اور لوگ سخت پریشان ہو گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم لوگ نہ گھبراؤ، اللہ جلد ہی تمہارے لیے کشادگی کی صورت پیدا کر دے گا۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا تجارتی قافلہ شام سے آیا، اس میں 1000 اونٹ تھے، اور سب کے سب گیہوں اور کھانے کی چیزوں سے لدے ہوئے تھے۔

یہ خبر مدینے میں پھیلی تو شہر کے تاجر عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے۔ انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، وہ باہر آئے، ان کے پاس ایک چادر تھی جس کو وہ اپنے کندھے پر اس طرح ڈالے ہوئے تھے کہ اس کا ایک سرا سامنے کی طرف لٹک رہا تھا اور دوسرا سرا پیچھے کی طرف۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم لوگ کیوں آئے ہو، اور مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ تاجروں نے کہا: ہم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ کے پاس 1000 اونٹ، گیہوں اور غذائی سامان آیا ہے، ہم ان کو خریدنا چاہتے ہیں۔

آپ ہمارے ہاتھ یہ غذائی سامان بیچ دیں تاکہ ہم اس کو مدینے کے ضرورت مندوں تک پہنچا سکیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اندر آؤ، اور گھر میں بیٹھ کر بات کرو۔ وہ لوگ اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ غذائی اشیاء کے 1000 ڈھیر گھر کے اندر پڑے ہوئے ہیں۔ اب بات چیت شروع ہوئی۔

عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میری شام کی خریداری پر تم مجھ کو کتنا زیادہ نفع دو گے؟ انہوں نے کہا: 10 درہم پر 12 درہم۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ کو اس سے زیادہ قیمت مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا: 10 درہم پر 14 درہم۔

حضرت عثمان نے کہا: مجھ کو اس سے زیادہ قیمت مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا: اچھا، 10 درہم پر 15 درہم۔ حضرت عثمان نے کہا: مجھ کو اس سے بھی زیادہ مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا: کون آپ کو اس سے زیادہ دے رہا ہے، جبکہ مدینے کے جتنے تاجر ہیں سب یہاں جمع ہیں؟

حضرت عثمان نے کہا: مجھ کو ہر ایک درہم کے بدلے 10 درہم مل رہا ہے، پھر کیا تم اس سے زیادہ دے سکتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا: اللہ نے اپنی کتاب پاک میں فرمایا ہے کہ جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس کا دس گنا بدلہ ہے۔ انعام 160۔

تو اے مدینے کے تاجیرو، گواہ رہو کہ میں نے یہ تمام غذائی سامان اللہ کے لیے شہر کے ضرورت مندوں پر صدقہ کر دیا۔ الابقریات الاسلامیہ، صفحہ 572۔ یہ واقعہ خدا کے وعدے پر یقین کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ خدا پر ایمان آدمی کے اندر اسی قسم کا یقین و اعتماد پیدا کرتا ہے، اور جس آدمی کے اندر اس قسم کا یقین و اعتماد پیدا ہو جائے، وہ اغراض و مصالح سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔

اس کے حوصلے اتنا زیادہ بلند ہو جاتے ہیں کہ اس کے بعد بڑی سے بڑی قربانی بھی اس کے لیے مشکل چیز نہیں رہتی۔ کتاب تعمیر انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 233۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.