← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Ehteraam-e-Insaniyat
Urdu · 4 min
احترامِ انسانیت: خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانے میں حضرت عمر بن العاص مصر کے گورنر تھے۔ انہوں نے ایک بار گھوڑوں کی دوڑ کرائی، اس دوڑ میں گورنر کے بیٹے کا گھوڑا بھی شریک تھا۔ مگر جب دوڑ ہوئی تو ایک مصری، یعنی غیر مسلم، کا گھوڑا آگے بڑھ گیا۔ مصری کو کوڑے سے مار دیا، مارتے ہوئے ان کی زبان سے نکلا: خذها وانا ابن الأكرمين یعنی "یہ لو، اور میں شریفوں کی اولاد ہوں"۔
محدث صوافي فضائل امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، صفحہ 4722۔ حضرت انس ابن مالک اس قصے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مصری، یعنی غیر مسلم، مصر سے چل کر مدینہ پہنچا اور خلیفہ ثانی عمر فاروق سے شکایت کی کہ گورنر کے لڑکے نے اس طرح اس کو کوڑے سے مارا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو، اور فوراً اپنے ایک خاص آدمی کو مصر بھیجا کہ عمر ابن العاص اور ان کے بیٹے محمد ابن عمر جس حال میں ہوں، اسی حال میں ان کو لے کر مدینہ آؤ۔ چنانچہ وہ لوگ لائے گئے۔
جب وہ مدینہ پہنچے تو حضرت عمر نے فرمایا: أين المصري؟ دُونَكَ الدُّرَّةَ فَاضْرِبْ ابنَ الأكرمين مصری کہاں ہے؟ یہ کوڑا لو اور اس سے شریف زادے کو مارو۔ محدث صوافي فضائل امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، صفحہ 4722۔
اس کے بعد مصری نے کوڑا لیا اور گورنر مصر کے سامنے ان کے صاحبزادے کو مارنا شروع کیا۔ وہ مارتا رہا یہاں تک کہ ان کو زخمی کر دیا۔ حضرت عمر درمیان میں کہتے جاتے تھے کہ شریف زادے کو مارو۔ جب وہ خوب مار چکا تو حضرت عمر فاروق نے کہا کہ ان کے والد عمر ابن العاص کے سر پر بھی مارو، کیونکہ خدا کی قسم، ان کے بیٹے نے صرف اپنے باپ کی بڑائی کے زور پر تم کو مارا تھا۔
فوالله ما ضربك ابنُه إلا بفضل سلطانه مجلد الجامعہ الاسلامیۃ بالمدینۃ المنورہ، صفحہ 17620۔ مصری نے کہا کہ اے امیر المؤمنین! جس نے مجھ کو مارا تھا، اس کو میں نے مار لیا۔ اس سے زیادہ کی مجھے حاجت نہیں۔
حضرت عمر نے کہا: خدا کی قسم، اگر تم ان کو بھی مارتے تو ہم تمہارے اور ان کے درمیان حائل نہ ہوتے، یہاں تک کہ تم خود ہی ان کو چھوڑ دو۔ پھر آپ نے عمر ابن العاص سے مخاطب ہو کر فرمایا: يا عمر متى استعبتم الناس وقد ولدتهم أمهاتهم أحرارًا محدث صوافی فضائل امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، صفحہ 4732۔ اے عمر! تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، حالانکہ ان کی ماؤں نے ان کو آزاد پیدا کیا تھا۔
ابن جوزی، سیرت عمر بن الخطاب۔ یہ واقعہ انسانی احترام اور انسانی برابری کی آخری اعلیٰ مثال ہے۔ اس واقعے نے ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان ہر قسم کے فرق کو عملاً ختم کر دیا۔ اس نے انسانی عدل و انصاف کی ایسی نظیر قائم کر دی جس کے آگے انسانی عدل و انصاف کا کوئی اور درجہ نہیں۔
کتاب: تعمیر انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 232۔