← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Sada Zindagi
Urdu · 7 min
سادہ زندگی۔ اسلامی خلفا کے زمانے میں دولت اور اقتدار دونوں چیزوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا تھا۔ اس کے باوجود خلفا بالکل سادہ زندگی گزارتے تھے، اس کا اعتراف تمام مؤرخین نے کیا ہے۔ ڈبلیو مونٹگومری وارڈ نے لکھا ہے کہ مسلم خلفا، جو اب ایک وسیع بادشاہت کے حکمران تھے، وہ اب بھی مدینے میں بے حد سادہ طریقے سے رہتے تھے۔
The ruler of what was now a vast empire still lived a very simple life in Madina, and had not so much as a bodyguard. The majesty that was Islam. 1984۔ خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصے کے حکمران تھے، مگر جسم پر معمولی کپڑا ہوتا تھا جس میں اکثر پیوند لگا رہتا تھا۔
پانی کی مشک کندھے پر رکھ کر چلتے تھے۔ پانی کی مشک کندھے پر رکھ کر چلتے تھے۔ پتھر کا تکیہ سر کے نیچے رکھ کر زمین پر سو جاتے تھے۔ معمولی کھانا کھاتے اور معمولی گھر میں رہتے۔
ایک بار احنف بن قیس ان سے ملنے کے لیے مدینہ آئے تو دیکھا کہ معمولی حالت میں ادھر سے ادھر دوڑ رہے ہیں۔ احنف نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ حضرت عمر نے جواب دیا کہ بیت المال کا ایک اونٹ بھاگ گیا ہے، اس کو تلاش کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آپ امیرالمومنین ہیں، آپ خود کیوں یہ زحمت اٹھا رہے ہیں؟
آپ نے کسی غلام کو حکم دے دیا ہوتا، وہ اس کام کو کر ڈالتا۔ حضرت عمر نے جواب دیا: أي عبدٍ أعبدُ مني؟ روضۃ الاخیار المنتخب من ربیع الابرار، صفحہ 407۔ یعنی: کون ہے جو مجھ سے بڑھ کر غلام ہو؟
أي عبدٍ أعبدُ مني؟ یعنی: کون ہے جو مجھ سے بڑھ کر غلام ہو؟ سلطنت کا حاکم ہونے کے باوجود اپنے کو عام آدمیوں سے ایک آدمی سمجھنا اعلیٰ ترین حاکمانہ اخلاق ہے، مگر اس حاکمانہ اخلاق کی عملی مثال اسلامی تاریخ کے سوا کہیں اور نہیں ملے گی۔ حضرت عمر فاروق کا زمانہ خلافت 634 عیسوی سے 644 عیسوی تک ہے۔
انہی کے زمانے میں فلسطین فتح ہوا۔ اس فتح کے موقع پر فلسطین کے مسیحی ذمہ داروں کی طلب پر حضرت عمر نے مدینے سے فلسطین کا سفر کیا۔ یہ سفر ایک عظیم سلطنت کے عظیم حکمران کا تھا، مگر وہ اتنا سادہ تھا کہ اس کے آگے سادگی کا مزید تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عبداللہ الطل، جو فلسطین کی جنگ 1948 میں شریک تھے، انہوں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے: خطر اليهودية العالمية على الإسلام والمسيحية یہ کتاب دارالقلم قاہرہ سے 1964 میں شائع ہوئی ہے۔
عبداللہ الطل کو فلسطین کے ایک معبد میں ایک تاریخی مخطوطہ یونانی زبان میں لکھا ہوا ملا۔ یہ مخطوطہ جو قدیم زمانے میں کسی عیسائی نے لکھا تھا، اس میں حضرت عمر کے داخل فلسطین کا تذکرہ ہے۔ عبداللہ الطل نے اس مخطوطے کا عربی ترجمہ اپنی کتاب میں شامل کیا ہے۔ اس کا خلاصہ حسبِ ذیل ہے: جب بیت المقدس پر مسلم فوجوں کا حصار بڑھا تو 636 میں وہاں کا بڑا پادری صفر نیوس شہر کی دیوار پر چڑھا۔
اس نے مسلم فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تم سے صلح کرنا چاہتے ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ صلح ہمارے امیر کے ہاتھ پر ہوگی۔ چنانچہ اس مضمون کا ایک خط مدینہ بھیجا گیا تاکہ امیرالمومنین فلسطین آئیں اور اہل فلسطین سے صلح کا معاملہ طے کریں۔ عمر فاروق مدینے سے بیت المقدس جانے کے لیے نکلے، مگر حال یہ تھا کہ ان کے ساتھ صرف ایک سواری اور ایک غلام تھا۔ جب وہ شہر سے باہر آئے تو اپنے غلام سے کہا کہ ہم دو ہیں اور سواری ایک ہے۔
اگر میں سواری پر بیٹھوں اور تم پیدل چلو تو میں تمہارے اوپر ظلم کروں گا، اور اگر تم سواری پر بیٹھو اور میں پیدل چلوں تو تم میرے اوپر ظلم کرو گے۔ اور اگر ہم دونوں سواری پر بیٹھ جائیں تو ہم اس کی پیٹھ توڑ ڈالیں گے۔ اس لیے ہم لوگ تین باری مقرر کر لیں۔ چنانچہ انہوں نے راستہ اس طرح طے کیا کہ ایک بار عمر سواری پر بیٹھتے اور غلام پیدل چلتا۔
اس کے بعد غلام سواری پر بیٹھتا اور عمر پیدل چلتے، اور پھر دونوں پیدل چلتے اور سواری خالی رہتی۔ اس طرح وہ سفر کرتے رہے یہاں تک کہ وہ قدس کے قریب پہنچ گئے۔ اتفاق سے اس وقت غلام کی باری تھی۔ غلام نے سواری پر بیٹھ کر چلنے سے انکار کیا اور چاہا کہ آخری مرحلے میں شہر میں داخلہ اس حال میں ہو کہ سواری پر عمر فاروق بیٹھے ہوئے ہوں، مگر عمر فاروق اس پر اس پر راضی نہیں ہوئے۔
اور وہ قدس کے دروازے پر اس حال میں پہنچے کہ غلام سواری پر تھا اور عمر فاروق پیدل چل رہے تھے۔ عمر فاروق کو اس حال میں دیکھ کر شہر کے پادریوں نے دروازہ کھول دیا اور عمر کے ساتھ اور عمر کے ہاتھ پر صلح کر لی۔ صلح نامہ کی تکمیل کے بعد حضرت عمر نے ایک مختصر تقریر کی جس میں کہا کہ اے اہل فلسطین! جو تمہارے لیے ہے وہ تمہارے لیے ہے۔
جو ہمارے لیے ہے وہ تمہارے لیے ہے، اور جو ہمارے لیے نہیں وہ تمہارے لیے بھی نہیں۔ یا اہل ایلیاء، لکم مالنا وعلیکم ما علینا الجامع الصحیح للسیرت النبویہ جلد چار صفحہ 1753۔ عمر فاروق کا یہ سفر تمام دنیا کے حکمرانوں کے لیے بلاشبہ آخری اور کامل ترین نمونے کی حیثیت رکھتا ہے۔ کتاب تعمیر انسانیت مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 229۔