حق کے آگے ڈہ پڑنا۔ اوپر جو واقعہ نقل کیا گیا، اس موقع پر حضرت عمر فاروق کا کردار ابتداً بے حد انتہا پسندانہ تھا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پیغمبرِ اسلام کا جسم بولتے بولتے خاموش ہو گیا، مگر انہیں یقین نہیں آیا کہ یہ آپ کی وفات کا واقعہ ہے۔ انہوں نے سمجھا کہ یہ ایک قسم کی روحانی معراج کا واقعہ ہے۔
آپ اپنے رب کے پاس گئے، آپ اپنے رب کے پاس گئے ہیں، اور جلد ہی دوبارہ زمین پر واپس آئیں گے۔ وہ اس معاملے میں کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہ تھے، حتیٰ کہ حضرت ابوبکر صدیق کی بھی نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق نے مسجد نبوی میں داخل ہو کر ان کو چپ ہونے کے لیے کہا، مگر وہ چپ ہونے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ ان کا ہاتھ تلوار کے دستے پر تھا، اور ان کی زبان بے تکان بولے چلی جا رہی تھی۔
یہ لمحہ تھا جب کہ حضرت ابوبکر صدیق مسجد نبوی میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے۔ انہوں نے حضرت عمر فاروق کی آواز پر اپنی آواز کو تیز کرتے ہوئے اپنی تقریر شروع کر دی، یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق تقریر کرتے ہوئے اس آیت تک پہنچے: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَقْتُ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلَ أَفَإِن مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَن يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ سورہ نمبر 3، آیت 144۔ یعنی محمد تو صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟
اور جو شخص الٹے پاؤں پھر جائے تو وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ لے گا، اور اللہ شکر کرنے والوں کو ضرور بدلہ دے گا۔ قرآن کی اس آیت کا سننا تھا کہ فوراً حضرت عمر فاروق ٹھنڈے ہو گئے۔ بعد کے زمانے میں انہوں نے اپنا اس وقت کا حال بتاتے ہوئے کہا: وَقَعْتُ عَلَى الْأَرْضِ مَا تَحْمِلُنِي رِجْلَيَا الکامل فی التاریخ، ابن الاثیر، صفحہ 1862۔ یعنی: میں زمین پر گر پڑا، میرے پاؤں میرا بوجھ نہ سنبھال سکے۔
اس واقعے میں انسان عبدیت کے آخری مقام پر نظر آتا ہے۔ عبدیت یہ ہے کہ انسان خدا کے آگے ڈہ پڑے۔ حضرت عمر فاروق یہی انسان ثابت ہوئے۔ وہ خدا کا کلام سن کر بالکل لفظی طور پر زمین پر گر پڑے۔
اپنی رائے کو انہوں نے اپنے دماغ سے اس طرح نکال دیا جیسے کہ وہ ان کے دماغ میں کبھی تھی ہی نہیں۔ یہ اعتراف حق کی بلند ترین مثال ہے۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ حق کے ظاہر ہو جانے کے بعد کس طرح آدمی کو اس کے آگے جھک جانا چاہیے۔ کتاب تعمیر انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 228۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.