اخلاقیات کی تکمیل: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "بَعِسْتُ لِأُتَمِّ مَا حُسْنَ الْأَخْلَاقُ" (موطأ، امام مالک، حدیث نمبر 1885)۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ انسانی سماج میں پہلی بار جس نے اخلاق کا حقیقی نظام قائم کیا، وہ اسلام ہی تھا۔ اسلام نے پہلی بار اخلاقیات کے لیے بنیاد فراہم کی۔
قدیم زمانے میں اخلاق کا کوئی عمومی معیار قائم نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخلاق کے لیے ایک مددگار نظریہ درکار ہوتا ہے، اور قدیم زمانے میں اخلاق کے حق میں کوئی مؤثر قسم کا اخلاقی نظریہ موجود نہ تھا۔ یونانی فلسفیوں نے یہ کہا تھا کہ زندگی ابتدا نباتات کی صورت میں پیدا ہوئی، اس کے بعد وہ حیوانات کے دور میں داخل ہو گئی، اور پھر انسان کی صورت میں وہ تکمیل تک پہنچی۔ اسی نظریے کو موجودہ زمانے میں چارلس ڈارون نے زیادہ سائنٹیفک انداز میں پیش کیا، جس کو حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ کہا جاتا ہے۔
اس نظریے کے تحت انسان کی حیثیت ایک محترم شخصیت کی نہیں رہتی؛ وہ ایسا ہی ہو جاتا ہے جیسے کوئی درخت یا حیوان۔ ایسی حالت میں ایک انسان کے اندر دوسرے انسان کے لیے اعلیٰ اخلاقی جذبات پیدا نہیں ہو سکتے۔ دوسرا نظریہ وہ تھا جس کو ہندوستان میں آواگون کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق ہر انسان اپنے پچھلے جنم کا پھل پا رہا ہے، یعنی وہ جیسا ہے ویسا ہی اس کو اپنے پچھلے جنم کی بنا پر ہونا چاہیے۔
اس نظریے میں بھی رحم کا عنصر ختم ہو جاتا ہے، جو اخلاقیات کی لازمی بنیاد ہے۔ تیسرا عمومی نظریہ، جو تاریخ کے ہر دور میں رائج رہا ہے، وہ یہ ہے کہ زندگی بس اس دنیا کی زندگی ہے۔ جب کوئی مرتا ہے تو اسی وقت وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ یہ نظریہ بھی اخلاقیات کے لیے کوئی مؤثر بنیاد نہیں۔
اس قسم کا نظریہ صرف وہ چیز پیدا کر سکتا ہے جس کو استحصال یعنی exploitation کہا جاتا ہے۔ اسلام نے ان سب کے بجائے احتساب یعنی accountability کا تصور دیا، جو اخلاق کے حق میں یقینی طور پر ایک مددگار نظریے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام نے بتایا کہ انسان مرنے کے بعد خدا کی عدالت میں پیش ہوگا، اور وہاں اپنے موجودہ اخلاقی عمل کے مطابق سزا یا انعام پائے گا۔ یہ نظریہ اخلاق کے حق میں ایک طاقتور محرک کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد جو اخلاقی سماج بنا، ویسا سماج اس سے پہلے دنیا میں نہیں بنا تھا۔ کتاب "تعمیر انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 214۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.