Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Pur Amn Jidd-o-Johd ki Taleem

Urdu · 7 min

پرامن جدوجہد کی تعلیم: قدیم زمانے میں کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے انسان صرف ایک ہی طریقے کو جانتا تھا، اور وہ مسلح جدوجہد ہے۔ اسلام نے تاریخ میں پہلی بار پرامن جدوجہد کا تصور رائج کیا، اور اس کی ایک کامیاب عملی مثال بھی تاریخ میں قائم کر دی جو ابدی طور پر لوگوں کے لیے ایک ماڈل کا کام دے۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کو حکم دیتے ہوئے کہا گیا کہ "اور تم اللہ اور تم قرآن کے ذریعے جہاد کرو، بڑا جہاد" یعنی "وجاهدهم به جهادًا كبيرًا" ۔ قرآن صرف ایک کتاب ہے، نہ کہ کوئی شمشیر۔

اس لیے اس حکم کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ تم اپنی جدوجہد کے لیے پرامن طریقہ، یعنی peaceful method کو اپناؤ، غیر متشددانہ ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مشن کو کامیابی تک پہنچاؤ۔ اسی بات کو قرآن میں دوسری جگہ اس طرح کہا گیا ہے کہ "وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر" ۔ تم ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرو، اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرو، یعنی حق کے لیے صبر کرتے ہوئے جدوجہد کرو۔ دوسرے لفظوں میں، اس سے مراد پرامن جدوجہد ہے، کیونکہ صبر کے بغیر پرامن جدوجہد نہیں ہو سکتی۔

یہی بات حدیث میں بھی مختلف انداز میں بتائی گئی ہے، مثلاً صحیح البخاری کی ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ إن الله يعطي على الرفق ما لا يعطي على العنف، النهاية في غريب الحديث والأثر صفحہ 3093۔ لفظ بدل کر دیکھا جائے تو یہ عین وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں non-violent activism یا peaceful activism کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن عین اسی اصول پر چلایا اور اس کو آخری تکمیل تک پہنچایا۔

آپ کی سیرت کا اس نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جاتا تو اس سے پرامن جدوجہد کے تمام اصول کامیابی کے ساتھ مرتب کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نمایاں اصول یہ ہیں: نمبر 1، تحریک کا آغاز دعوت سے کرنا، نہ کہ عملی اقدام سے، یعنی ابتدائی دورِ رسالت۔ نمبر 2، فیصلہ کن مرحلے میں پہنچنے سے پہلے عملی برائیوں کو برداشت کرنا، یعنی کعبے میں بت۔ نمبر 3، فریق ثانی کی زیادتی کے باوجود ایک طرفہ صبر کرنا، یعنی مکی دور۔

نمبر 4، جنگی ٹکراؤ کو آخری حد تک avoid کرنا، یعنی غزوہ خندق۔ نمبر 5، مقام نزاع سے اپنے آپ کو دور رکھنا، یعنی ہجرت۔ نمبر 6، صرف دفاع میں لڑنا، وہ بھی اس وقت جبکہ کوئی چارہ کار باقی نہ رہے، یعنی احد و حنین۔ نمبر 7، اقدام میں خاموشی کا طریقہ اختیار کرنا، یعنی مکے کی طرف مارچ۔

نمبر 8، جنگ چھڑ جائے تو ہر قیمت پر اس کو ختم کرنے کی کوشش کرنا، یعنی صلح حدیبیہ۔ نمبر 9، قابو پانے کے باوجود دشمن کو معاف کر کے اس کو اپنا ساتھی بنا لینا، یعنی فتح مکہ۔ نمبر 10، مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو استعمال کرنے کی پالیسی اختیار کرنا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم صرف 23 سال کی مدت میں پورے عرب میں ایک زبردست انقلاب لے آئے۔

اس جدوجہد کے دوران فریق مخالف نے 80 سے زیادہ بار آپ کو جنگ میں الجھانا چاہا، مگر آپ کی پرامن پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ عملاً صرف 3 بار، یعنی بدر، احد، حنین، صرف آدھے آدھے دن کے لیے باقاعدہ جنگ پیش آئی، وہ بھی ناگزیر دفاع کے طور پر۔ اس پوری مدت میں دونوں جانب کے 150 سے بھی کم آدمی مارے گئے۔ یہ پورے معنوں میں ایک غیر خونی انقلاب، یعنی bloodless revolution تھا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں ایک عمل، یعنی process، جاری ہوا جو تاریخ میں مسلسل سفر کرتا رہا۔

اسلام کی پیدا کردہ دوسری تبدیلیوں کی طرح، اسلام کا یہ پرامن انقلاب بھی process کے روپ میں تاریخ میں جاری رہا۔ موجودہ زمانے میں اسی تصور نے pacifism کے نام سے ایک مستقل سماجی نظریے کی حیثیت اختیار کر لی ہے، جس میں کانٹ، سیموئل کالون سے لے کر مہاتما گاندھی تک بہت سی شخصیتوں کے نام شامل ہیں۔ مگر جہاں تک اس کی عملی کامیابی کا تعلق ہے، اس کی کوئی بھی دوسری نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ مثال کے طور پر ہندوستان کا گاندھیائی انقلاب 1947، عدم تشدد یعنی non-violence کے ذریعے وجود میں آیا، مگر اس انقلاب نے ہندوستانی سماج کے اندر عمومی معنوں میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں پیدا کی۔

جو کچھ ہوا وہ صرف یہ کہ انگریزی افراد کے بجائے کچھ ہندوستانی افراد حکومت پر قابض ہو گئے۔ اسی طرح ساؤتھ افریقہ کا حالیہ انقلاب بھی سماجی معنوں میں وہاں کوئی صالح تبدیلی پیدا نہ کر سکا۔ اس کے نتیجے میں دوبارہ جو کچھ ہوا وہ صرف یہ تھا کہ ملک میں سفید فام افراد کے بجائے کچھ سیاہ فام افراد اقتدار کے منصب پر قابض ہو گئے، وغیرہ۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 215۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.