Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Elm ki Umumi Ishaat

Urdu · 4 min

علم کی عمومی اشاعت: اسلام سے پہلے کسی بھی زمانے میں علم کی عمومی اشاعت نہ ہو سکی۔ قدیم زمانے کی پوری معلوم تاریخ علم کی عمومی اشاعت سے خالی ہے۔ اس زمانے میں مختلف مقامات پر کچھ ایسے افراد ضرور پیدا ہوئے جنہوں نے علمی تحقیق میں دلچسپی لی، مثلاً یونان، مصر، شام، انڈیا، چین وغیرہ۔ انہوں نے اپنی علمی دریافتوں کو کتابوں کی صورت میں قلم بند کیا، مگر یہ کتابیں عمومی طور پر پھیل نہ سکیں۔

وہ انفرادی دائرے میں محدود ہو کر رہ گئیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانے میں مذہب اور کلچر کا جو ڈھانچہ تھا، وہ مکمل طور پر توہماتی اور روایات پر مبنی تھا۔ ہر قوم توہماتی عقائد میں جی رہی تھی۔ ایسی حالت میں لوگ علمی تحقیقات سے ڈرتے تھے۔

وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھتے تھے کہ اگر کوئی نئی تحقیق سامنے آ گئی تو ان کا توہماتی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ جائے گا۔ اس بنا پر وہ علمی تلاش و جستجو کے سخت مخالف بنے رہے۔ اسلام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس نے مذہب کو توہماتی اجزاء سے پاک کیا۔ اس نے مذہب کو توہمات کے بجائے فطرت کے اٹل قوانین پر قائم کیا۔

اس مذہبی انقلاب نے اہل اسلام کو اس ذہنی پیچیدگی سے پاک کر دیا جس میں پچھلے لوگ مبتلا رہتے تھے۔ اب ان کو یہ خطرہ نہیں رہا کہ کوئی علمی دریافت ان کے مذہب کو غلط ثابت کر دے گی۔ وہ اس یقین میں جیتے تھے کہ ہر علمی دریافت اسلام کے مطابق ثابت ہوگی، کیونکہ جو اسلام ہے وہی فطرت ہے، اور جو فطرت ہے وہی اسلام ہے۔ اس یقین نے اہل اسلام کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ ساری دنیا کے علوم کو حاصل کریں۔

اس مقصد کے تحت ہر جگہ کی علمی کتابوں کا عربی ترجمہ کرنے کے لیے بڑے بڑے مراکز قائم ہوئے۔ ان میں سے بغداد کا بیت الحکمت، صفحہ 830، اور قاہرہ کا دارالحکمت، صفحہ 1005، زیادہ مشہور ہیں۔ اس زمانے میں دنیا بھر کی علمی کتابوں سے استفادہ کرنا ایک عمومی تحریک بن گیا۔ عمرہ اور حکام نے بڑی بڑی رقمیں خرچ کر کے اپنے وفود دنیا کے مختلف شہروں میں بھیجے، اور وہ علمی ذخیرے جو گھروں اور کتب خانوں میں بند پڑے ہوئے تھے، ان کو حاصل کر کے ان کے ترجمے عربی زبان میں کرائے۔

اس طرح یہ قدیم علوم پہلے مسلمانوں کے درمیان پھیلے۔ اس کے بعد یہ علوم مسلمانوں کی پیش قدمی کے ساتھ دوسرے ملکوں میں داخل ہوئے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں نے جب اسپین میں سلطنت قائم کی تو یہ عربی کتابیں لاطینی زبان میں ترجمہ ہونے لگیں۔ اس طرح یہ علوم افریقہ اور ایشیا اور یورپ کی پوری آباد دنیا میں پھیل گئے۔

کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 211۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.