توہمات کا خاتمہ: صحیح البخاری اور حدیث کی دوسری کتابوں میں ایک روایت آئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مدنی دور میں ایک بار سورج گرہن کا واقعہ پیش آیا۔ اتفاق سے اسی دن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے کم سن صاحبزادے ابراہیم کی وفات ہوئی۔ چونکہ اس زمانے میں گرہن کے بارے میں ایک عقیدہ یہ تھا کہ بڑے لوگوں کی موت پر سورج گرہن، چاند گرہن پیش آتے ہیں، اس بنا پر وہاں کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ آج کے دن چونکہ پیغمبر کے صاحبزادے کی وفات ہوئی ہے اس لیے سورج گرہن پیش آیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ تیزی سے مدینے کی مسجد میں پہنچے، آپ نے وہاں لوگوں کو جمع کیا۔
اس کے بعد لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کسی کی موت یا زندگی کی بنا پر واقع نہیں ہوتے، بلکہ وہ خدا کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ پس جب تم سورج گرہن یا چاند گرہن کو دیکھو تو عبادت کرو اور اللہ سے دعا کرو۔ اس کے بعد آپ نے مسجد میں جماعت کے ساتھ لمبی نماز ادا کی اور دعا فرمائی۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 996۔
یہ کوئی سادہ بات نہ تھی، یہ ایک انقلابی اعلان تھا جو تاریخ میں پہلی بار کیا گیا۔ قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے توہماتی افکار کا غلبہ تھا، انہی میں سے ایک یہ تھا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کے بارے میں عجیب قسم کے بے بنیاد نظریات رائج تھے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ آسمان میں ایک بہت بڑا اژدہا ہے، وہ غصہ ہو کر سورج اور چاند کو نگلنے کی کوشش کرتا ہے، اس سے گرہن واقع ہوتا ہے۔ کچھ اور لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جب کوئی بڑا آدمی مرتا ہے تو اس کے اثر سے سورج اور چاند کو گرہن لگ جاتا ہے وغیرہ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار انسان کو یہ بتایا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کا ان توہماتی نظریات سے کوئی تعلق نہیں، وہ صرف فطرت کے مظاہر ہیں اور وہ معلوم فلکیاتی قوانین کے تحت واقع ہوتے ہیں۔ اس طرح پیغمبر اسلام نے انسان کو توہماتی طرز فکر کے دور سے نکالا اور اس کو سائنسی طرز فکر کے دور میں داخل کر دیا۔ اس کے بعد تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ فطرت کے مظاہر پر سائنسی انداز میں غور و فکر کیا جائے اور فرضی قیاسات کے بجائے حقیقی اسباب کی روشنی میں نظریات قائم کیے جائیں۔ اسی انقلابی رہنمائی کا یہ نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کے درمیان وہ بے شمار توہمات نہیں پھیلے جو ہزاروں سال سے دنیا میں چلے آ رہے تھے۔
اس کے نتیجے میں سب سے پہلے یہ ہوا کہ مسلم سماج حقیقت پسندانہ سماج بن گیا۔ اس کے بعد جب مسلمان عرب سے نکل کر دنیا کے مختلف ملکوں میں گئے تو یہ غیر توہماتی فکر ہر جگہ پھیل گیا۔ یہ تاریخی عمل مسلسل جاری رہا، یہاں تک کہ موجودہ زمانے میں وہ چیز ظہور میں آئی جس کو سائنسی طرز فکر کہا جاتا ہے اور جو تمام علمی اور مادی ترقیوں کی فطری بنیاد ہے۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 210۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.