Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Nakami nahi

Urdu · 3 min

ناکامی نہیں، پیغمبرانہ نگاہ کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ وہ "نہیں" کو بھی "ہے" کی صورت میں دیکھتا ہے۔ اس کی بنیاد یہ ہے کہ خدا نے دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا ہے کہ یہاں کوئی چیز آخری طور پر مشکل نہیں، بلکہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی شامل ہے۔ زندگی کی یہ حقیقت قرآن میں ان لفظوں میں بتائی گئی ہے کہ "پس بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے"۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

سورہ نمبر 94، آیت 6۔ ابنِ اسحاق کہتے ہیں کہ 8 ہجری میں مکے سے طائف جاتے ہوئے پیغمبرِ اسلام ایک ایسی— ایک ایسے پہاڑی راستے سے گزرے جو تنگ اور دشوار گزار تھا۔ آپ نے پوچھا کہ اس راستے کا نام کیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ "الضيقَه"، یعنی مشکل۔

آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس کا نام "اليسرى" یعنی آسان ہے۔ سیرت ابنِ ہشام، جلد 2، صفحہ 482۔ یہ واقعہ پیغمبرانہ طرزِ فکر کو بتاتا ہے: پیغمبر دنیا کی ہر چیز کو خدا کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو مشکل بھی آسانی کے روپ میں دکھائی دیتی ہے، کیونکہ خدا نے اپنی دنیا کو اسی قانون کے تحت بنایا ہے کہ یہاں ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہمیشہ موجود رہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ کو اپنے وطن میں سخت ترین مشکل سے سابقہ پیش آیا۔ اس کے باوجود آپ نے دنیا کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ یہ ایک ایسا مسلم واقعہ ہے جس سے انکار کرنا ممکن نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ رسول کی زندگی میں تمہارے لیے اسوہ ہے۔

سورہ نمبر 33، آیت 21۔ یہ اسوہ یا نمونہ کسی محدود معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ زندگی کے ہر معاملے کے بارے میں ہے۔ آپ نے جس طرح نماز اور حج کا طریقہ بتایا، اسی طرح آپ نے اپنے عمل سے یہ بھی بتایا کہ مسائل کا مقابلہ کس طرح کیا جائے، اور مشکل کو آسان کس طرح بنایا جائے۔ پیغمبرِ اسلام نے اپنے عمل سے موجودہ دنیا کے بارے میں اس امکان کی ممتاز ترین مثال قائم کی ہے: آپ نے مشکل ترین حالات میں اعلیٰ ترین کامیابی حاصل کی۔

حتیٰ کہ آپ نے اپنے دشمنوں کو اپنا ساتھی بنا لیا۔ آپ نے اپنی مخالف صف کے لوگوں کو اپنی صف میں شامل کر لیا۔ آپ کو اپنے ماحول میں انتہائی ناموافق حالات پیش آئے، مگر آپ نے اپنی فراست کے تحت ان کو کامل طور پر اپنی موافقت میں تبدیل کر لیا۔ کتاب "تعمیر حیات"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 159۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.