اپنے اوپر فتح، ایڈمن ہلر 2 جولائی 1919 کو نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں پیدا ہوا۔ اس کو پہاڑوں پر چڑھنے کا شوق تھا، پہلے وہ اپنے ملک کے پہاڑوں پر چڑھائی کیا کرتا تھا۔ اس نے پہلی بار 1951 میں ایک ٹیم کے ساتھ ہمالیہ کی چوٹی ایورسٹ پر چڑھنے کی کوشش کی، جو 2,928 فٹ اونچی ہے۔ پہلی بار اس کو کامیابی نہیں ہوئی، دوسری بار وہ 1953 میں ایک برٹش ٹیم کے ساتھ ایورسٹ پر چڑھائی کے لیے روانہ ہوا۔
اس بار اس نے ایک نیپالی ٹینزنگ نورگے 1914 تا 1986 کو بطور رہنما ساتھ لیا۔ 29 مئی 1953 کو وہ ایورسٹ کی بلندی پر پہنچ گیا۔ وہ پہلا انسان تھا جس نے دنیا کی سب سے بلند چوٹی پر اپنا قدم رکھا، چنانچہ فوراً ہی وہ ساری دنیا میں مشہور ہو گیا۔ برطانوی حکومت نے 16 جولائی کو اسے "سر" کا خطاب دیا۔
اس نے اپنی پہاڑی مہم پر ایک کتاب لکھی، جو 1955 میں "ہائی ایڈونچر" کے نام سے شائع ہوئی۔ سر ایڈمن ہلر نے اپنی کتاب میں جو باتیں لکھی ہیں، ان میں سے ایک سبق کی بات یہ ہے کہ ہم پہاڑ کو فتح نہیں کرتے ہیں، بلکہ ہم خود اپنے آپ کو فتح کرتے ہیں۔ It is not the mountain we conquer, but ourselves. یہ ایک سادہ سی بات ہے، مگر وہ بے حد اہم بات ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر فتح دراصل اپنے آپ پر فتح پانے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہر فتح سب سے پہلے یہ چاہتی ہے کہ اس کے لیے ضروری جدوجہد کی جائے، گویا کہ آدمی کو سب سے پہلے اپنے آپ کو جدوجہد کا اہل ثابت کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ہی اس دنیا میں وہ اس کا اہل قرار پاتا ہے کہ اس کو فتح و کامیابی کا مقام عطا کیا جائے۔ خواہ پہاڑ پر چڑھنا ہو یا اور کوئی کامیابی حاصل کرنا ہو، آدمی کو سب سے پہلے محنت اور مشقت کے امتحان میں پاس ہونا پڑتا ہے۔
اس کو یہ ثبوت دینا پڑتا ہے کہ وہ صبر اور برداشت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس دن آدمی اپنے اندر ضروری اہمیت کا ثبوت دے دیتا ہے، اس کے اگلے دن دنیا دیکھتی ہے کہ وہ کامیابی کی بلند چوٹی پر فاتحانہ کھڑا ہوا ہے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 161۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.