تجارتی شور۔ دہلی کے ایک مسلمان ہیں جو کامیاب موٹر مکینک سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی کامیابی کا راز کیا ہے، اس کا اندازہ ان کے ایک واقعے سے ہوتا ہے۔ 1982 میں یہ خبر پھیلی کہ جلد ہی جاپانی کمپنی سوزوکی کی بنائی ہوئی ماروتی کار بازار میں آنے والی ہے۔
مسخرہ مسلمان کے دماغ میں فوراً یہ بات آئی کہ جب ماروتی گاڑی انڈیا کی سڑکوں پر دوڑنے لگے گی تو ساتھ ہی اس کی سروس اور مرمت کا کام بھی شروع ہو جائے گا۔ اس وقت جو آدمی اس کام کو جانتا ہوگا، وہ یقیناً بہت کامیاب رہے گا۔ مسکورہ مسلمان کو معلوم تھا کہ جاپان کی سوزوکی کی کمپنی پچھلے 10 سال سے پاکستان میں یہی گاڑی بنا کر بیچ رہی ہے۔ وہاں کی سڑکوں پر ہزاروں کی تعداد میں یہ گاڑیاں چل رہی ہیں۔
چنانچہ انہوں نے اس کا چنانچہ انہوں نے اس کا کام سیکھنے کے لیے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ دہلی سے کراچی گئے، وہاں وہ 2 مہینے رہ کر سوزوکی کار کی مرمت اور سروس کا کام سیکھتے رہے، اور پھر دوبارہ دہلی واپس آ گئے۔ ہندوستان میں بنی ہوئی ماروتی گاڑی جب یہاں کی سڑکوں پر چلنے لگی، اس وقت وہ اس کا کام سیکھ چکے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ماروتی کا کام لینا شروع کر دیا۔
گاہکوں کو ان کا کام پسند آ گیا۔ انہوں نے ماروتی کار کی سروس میں کافی پیسے کمائے۔ غور کیجئے تو مسکورہ مسلمان کی اس کامیابی میں تین چیزیں شامل ہیں: واقفیت، پیش بینی، اور اقدام۔ وہ اس سے واقف تھے کہ پاکستان میں سوزوکی کی کمپنی کی گاڑیاں چل رہی ہیں۔
پھر انہوں نے پیشگی طور پر یہ اندازہ کیا کہ جلد ہی ہندوستان میں ان گاڑیوں کی سروس اور مرمت کا کام شروع ہونے والا ہے۔ پھر ان کے اندر یہ جرات تھی کہ وہ اس کی طرف اقدام کر سکیں۔ انہی اوصاف کا نام تجارتی شعور ہے۔ اور جس آدمی کے اندر یہ تجارتی شعور ہو، وہ اس دنیا میں کامیاب ہو کر رہتا ہے۔
کامیابی ایک ففٹی ففٹی کا معاملہ ہے۔ اس کا تعلق 50 فیصد امکانات سے ہے اور 50 فیصد اس کو استعمال کرنے کی صلاحیت سے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 162۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.