Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Ghair Zaruri Takrao

Urdu · 3 min

غیر ضروری ٹکراؤ: مسٹر البرٹ حورانی، 1915 تا 1993، مغربی ایشیا کے امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی مشہور کتاب ہے جس کا نام ہے "عرب قوموں کی ایک تاریخ"، "A History of the Arab Peoples." اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ عرب ملکوں کے لیے بہترین سیاسی پالیسی سیکولرزم ہے۔ ان کے الفاظ میں مذہب اور سیاسی زندگی کی علیحدگی، موجودہ دنیا میں کامیاب قومی زندگی کی واحد شرط ہے۔ The separation of religion from political life seemed to be a condition of successful national life in the modern world.

موجودہ زمانے میں روشن خیال طبقے کا یہ کہنا ہے کہ مذہب کو نجی دائرے میں محدود رہنا چاہیے۔ مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی، پرامن سماج کی تعمیر کے لیے لازمی شرط ہے۔ اس کے جواب میں موجودہ زمانے کے اسلام پسند شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہب اور سیاست دونوں لازم اور ملزوم ہیں، ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ غیر ضروری بحث، سنائی طرز فکر یعنی ڈیکارٹمس تھنکنگ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ لوگ صرف دو باتوں کے درمیان سوچ پاتے ہیں: یا مذہب مع سیاست، یا مذہب بغیر سیاست۔ اسی لیے وہ ایک دوسرے کو اپنا مخالف سمجھ کر ان سے لڑنے لگتے ہیں۔ حالانکہ یہاں ایک تیسرا نقطہ نظر بھی ہے، اور وہ تدریج سے تعلق رکھتا ہے، یعنی رائج الوقت نظام عملی طور پر مذہب کو جس دائرے میں کام کا موقع دے رہا ہو، اس دائرے کو بلا بحث قبول کر لینا اور اس کو نقطہ آغاز سمجھ کر اپنا کام فکری انداز میں شروع کر دینا۔

اس نزاع کا آسان حل یہ ہے کہ جس چیز کو سیکولر طبقہ اصولی تقسیم کے طور پر پیش کر رہا ہے، اس کو اسلامی طبقہ عملی تقسیم کے طور پر مان لے۔ اس عملی بندوبست کے باوجود اسلامی طبقہ اپنے فکر کی پرامن تبلیغ بدستور جاری رکھ سکتا ہے، جس کی موجودہ زمانے میں اسے پوری آزادی حاصل ہے۔ ایسی حالت میں پریشان ہونے کی کیا ضرورت؟ کتاب "تعمیر حیات"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 163۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.