Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Faasl-e-par raho

Urdu · 7 min

فاصلے پر رہو۔ سڑک پر بیک وقت بہت سی سواریاں دوڑتی ہیں؛ آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے، بائیں سے۔ اس لیے سڑک کے سفر کو محفوظ حالت میں باقی رکھنے کے لیے بہت سے قاعدے بنائے گئے ہیں۔ یہ سڑک کے قاعدے، یعنی ٹریفک رولز، سڑک کے کنارے ہر جگہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں تاکہ سڑک سے گزرنے والے لوگ انہیں پڑھیں اور ان کی رہنمائی میں اپنا سفر طے کریں۔

دہلی کی ایک سڑک سے گزرتے ہوئے اسی قسم کا ایک قاعدہ بورڈ پر لکھا ہوا نظر سے گزرا، اس کے الفاظ یہ تھے: "فاصلہ برقرار رکھو" "Keep distance." میں نے اس کو پڑھا تو میں نے سوچا کہ ان دو لفظوں میں نہایت دانائی کی بات کہی گئی ہے۔ یہ ایک مکمل حکمت ہے۔ اس کا تعلق سڑک کے سفر سے بھی ہے اور زندگی کے عام سفر سے بھی۔ موجودہ دنیا میں کوئی آدمی اکیلا نہیں ہے؛ ہر آدمی کو دوسرے بہت سے انسانوں کے درمیان رہتے ہوئے اپنا کام کرنا پڑتا ہے۔

ہر آدمی کے سامنے اس کا ذاتی انٹرسٹ ہے، ہر آدمی اپنے اندر ایک انا لیے ہوئے ہے، ہر آدمی دوسرے کو پیچھے کر کے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ یہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ ہم زندگی کے سفر میں "فاصلے پر رہو" کے اصول کو ہمیشہ پکڑے رہیں۔ ہر دوسرے سے اتنی دوری پر رہیں، ہم دوسرے سے اتنی دوری پر رہیں کہ اس سے ٹکراؤ کا خطرہ مول لیے بغیر ہم اپنا سفر جاری رکھ سکیں۔ اسی حکمت کو قرآن میں "اعراض" کہا گیا ہے۔

القصص سورہ نمبر 28 آیت 55۔ اگر آپ اعراض کی اس حکمت کو ملحوظ نہ رکھیں تو کہیں آپ کا فائدہ دوسرے کے فائدے سے ٹکرا جائے گا۔ کہیں آپ کا ایک سخت لفظ دوسرے کو مشتعل کرنے کا سبب بن جائے گا۔ کہیں آپ کی بے احتیاطی آپ کو غیر ضروری طور پر دوسروں سے الجھا دے گی۔

اس کے بعد وہی ہوگا جو سڑک پر ہوتا ہے، یعنی حادثہ، ایکسیڈنٹ۔ سڑک کا حادثہ آدمی کے سفر کو روک دیتا ہے، بعض اوقات خود مسافر کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اسی طرح زندگی میں مذکورہ اصول کو ملحوظ نہ رکھنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ کی ترقی کا سفر رک جائے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ خود اپنی زندگی سے محروم ہو جائیں۔

آپ تاریخ کے صفحے سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دیے جائیں۔ ماضی میں اور حال میں اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔ جب بھی کسی شخص نے اپنی مقررہ حد کو پار کیا، وہ لازمی طور پر برے انجام کا شکار ہوا۔ نیتین والیہ ایک 3 سالہ بچہ ہے۔

وہ اپنے والدین، وجے پال والیہ اور سنیتا، کے ساتھ شاہدرہ میں رہتا ہے۔ بچے کو چڑیا گھر دیکھنے کا شوق تھا، اس کے والدین اس کو دہلی کا چڑیا گھر دکھانے کے لیے لے گئے۔ مختلف جانوروں کو دیکھتے ہوئے یہ لوگ وہاں پہنچے جہاں سفید شیر کا پنجرہ ہے۔ وہ شیر اور اس کے بچے کو دیکھنے کے لیے رکے۔

یہاں نیتین ریلنگ کے اندر داخل ہو گیا اور پنجرے میں اپنا ہاتھ ڈال دیا۔ شیر نیما نے جھپٹ کر اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے لیا۔ لوگوں نے اس کو لکڑی سے مار کر ہٹایا، مگر اس دوران وہ بچے کا ہاتھ کندھے تک چبا چکی تھی۔ آپریشن کے بعد بچہ زندہ ہے، مگر وہ ساری عمر کے لیے اپنے دائیں ہاتھ سے محروم ہو چکا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا، 21 مارچ 1988 کے رپورٹر کے مطابق، بچے کے والدین نے اس حادثے کی ذمہ داری چڑیا گھر کے کارکنوں پر ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پنجرے کے پاس کوئی چوکیدار موجود نہ تھا۔ The parents claim that three were no guards around. اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو وہ فوراً اپنے سے باہر کسی کو تلاش کرتے ہیں جس پر حادثے کی ذمہ داری ڈال سکیں۔

مگر موجودہ دنیا میں اس قسم کی کوشش سراسر بے فائدہ ہے۔ یہاں حادثات سے صرف وہ شخص بچ سکتا ہے جو اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔ جو شخص خود بے قابو ہو جائے، وہ لازماً حادثے سے دوچار ہوگا، خواہ دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے اس نے ڈکشنری کے تمام الفاظ دہرا ڈالے ہوں۔ چڑیا گھر میں خونخوار جانور کے کٹہرے سے 4 فٹ کے فاصلے پر ریلنگ لگی ہوئی ہے۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ جانور کے مقابلے میں آدمی کو ایک محفوظ فاصلے پر رکھا جائے۔ اسی طرح زندگی کے ہر موڑ پر ایک ریلنگ کھڑی ہوتی ہے۔ جو شخص ریلنگ کو حد سمجھ کر وہاں ٹھہر جائے، وہ محفوظ رہے گا۔ اور جو شخص ریلنگ کو پار کر جائے، وہ اپنے آپ کو حادثات سے نہیں بچا سکتا، نہ چڑیا گھر کے اندر اور نہ چڑیا گھر کے باہر۔

کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 280۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.