← Tameer-e-HayatTameer-e-Hayat
Muqabal-e-ki Himmat
Urdu · 7 min
مقابلے کی ہمت۔ جے آر ڈی ٹاٹا ہندوستان کے چند انتہائی بڑے صنعت کاروں میں سے ہیں۔ بوقت تحریر ان کی عمر 85 سال کی ہے، اب بھی وہ ہوائی جہاز چلاتے ہیں اور برف پر اسکیئنگ کرتے ہیں۔ اتنی بڑی عمر میں ان کی اس صحت کا راز کیا ہے؟
اس کے جواب میں انہوں نے کہا: "One of the things that keep me young is the fact that I am prepared to live dangerously." You must be prepared to take risks. Risk in business, sport, marriage, everything, to make life worthwhile. Page 4. جو چیزیں مجھ کو برابر جوان رکھتی ہیں، ان میں سے ایک یہ حقیقت ہے کہ میں خطرات میں جینے کے لیے تیار رہتا ہوں۔
زندگی کو کارآمد بنانے کی خاطر آپ کو رِسک لینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ بزنس، کھیل، شادی، ہر چیز میں رِسک۔ ہندوستان ٹائمز، 13 جولائی 1991۔ انگریزی کا مثل ہے کہ "رسک نہیں تو کامیابی بھی نہیں"۔
"No risk, no gain. " یہاں سوال یہ ہے کہ رِسک اور خطرات کیوں آدمی کو کامیابی اور ترقی کی طرف لے جاتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ رِسک آدمی کی قوتوں کو جگاتا ہے۔ وہ ایک معمولی انسان کو غیر معمولی انسان بنا دیتا ہے۔
آدمی اگر خطرات کا سامنا نہ کرے، اور رِسک کی صورتوں سے دور رہے، تو وہ سست اور کاہل انسان بن جائے گا۔ اس کی فطری صلاحیتیں خوابیدگی کی حالت میں پڑی رہیں گی۔ وہ ایسا بیج ہوگا جو پھٹا نہیں کہ درخت بنے۔ وہ ایسا ذخیرۂ آب ہوگا جس میں موجیں نہیں اٹھیں۔
موجیں نہیں اٹھیں جو طوفان کی صورت اختیار کرے۔ مگر جب آدمی کو خطرات پیش آتے ہیں، جب اس کی زندگی رِسک کی حالت سے دوچار ہوتی ہے، تو اس کی شخصیت کے اندر چھپی ہوئی فطری استعداد جاگ اٹھتی ہے۔ حالات کا دباؤ اس کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ متحرک ہو جائے۔ وہ اپنی ساری طاقت اپنے کام میں لگا دے۔
ہر آدمی کے اندر عطا صلاحیتیں ہیں، مگر یہ صلاحیتیں ابتدائی طور پر سوئی ہوئی ہوتی ہیں۔ وہ کبھی جگائے بغیر نہیں جاگتیں۔ ان صلاحیتوں کو جگانے کا ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ انہیں چیلنج سے سابقہ پیش آئے۔ انہیں خطرات کا سامنا کرنا پڑے۔
انہیں خطرات کا سامنا کرنا پڑے۔ عافیت کی زندگی بظاہر سکون کی زندگی ہے، مگر عافیت کی زندگی کی یہ مہنگی قیمت دینی پڑتی ہے کہ آدمی کی شخصیت ادھوری رہ جائے۔ وہ اپنی امکانی ترقی کے درجے تک نہ پہنچ سکے۔ 6 جنوری 1990 کے اخبارات جو خبریں لائے، ان میں سے ایک خبر یہ تھی کہ عزر الدین کو اتفاق رائے سے قومی ٹیم کا کیپٹن مقرر کیا گیا ہے۔
وہ نیوزی لینڈ جانے والی انڈین کرکٹ ٹیم کے لیڈر ہوں گے۔ یہ بات کرکٹ حلقوں کے لیے انتہائی تعجب خیز تھی، کیونکہ عام خیال تھا کہ یہ عہدہ سری کان کو دیا جائے گا جو شارجہ کپ، نہرو کپ، اور پاکستان کے دورے پر جانے والی حالیہ ٹیم کے کپتان رہے ہیں۔ 27 سالہ عزر الدین حیدرآبادی کو کرکٹ میں ان کی مہارت کی وجہ سے "ونڈر بوائے" کہا جاتا ہے۔ عزر الدین ہندوستانی کرکٹ کے دوسرے کم عمر کپتان ہیں۔
ان سے قبل منصور علی خان پٹودی 21 سال کی عمر میں قومی ٹیم کے کپتان بنائے گئے تھے۔ عزر الدین کو جس چیز نے اس اعلیٰ عہدے پر پہنچایا، وہ ان کی یہ صلاحیت ہے کہ چیلنج پیش آنے پر وہ بے ہمت نہیں ہوتے، بلکہ مزید طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ دسمبر 1990 میں دوبارہ پاکستان کے آغاز میں عزر الدین کا ٹیسٹ کیریئر خطرے میں پڑ گیا تھا، کیونکہ فیصل آباد ٹیسٹ کی پہلی باری میں وہ کوئی خاص اسکور نہ کر سکے تھے، بلکہ صفر پر ہی آؤٹ ہو گئے تھے۔ لیکن دوسری باری میں شاندار سنچری بنا کر انہوں نے اپنا ٹیسٹ کیریئر تباہ ہونے سے بچا لیا۔
ٹائمز آف انڈیا، 2 جنوری 1990 کی رپورٹ کے مطابق، سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین مسٹر راج سنگھ ڈونگرپور نے کہا کہ عزر الدین کو منتخب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کو محبوب رکھتے ہیں۔ جیسا کہ پاکستان کے دورے میں دیکھا گیا، جہاں وہ پہلے ٹیسٹ میں چنے نہ جانے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ اور یہ قیادت کی نہایت اہم خصوصیت ہے۔ He loves getting out of challenging situations, as was seen on the tour of Pakistan where he was on the verge of being dropped from the first test, and that's an important ingredient in leadership.
یہ دنیا چیلنج کی دنیا ہے۔ یہاں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو چیلنج کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ یہ صفت کسی آدمی کے اندر جتنی زیادہ ہوگی، اتنی ہی زیادہ بڑی کامیابی وہ اس دنیا میں حاصل کرے گا۔ کتاب "تعمیر حیات"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 283۔