← Tameer-e-HayatTameer-e-Hayat
Nakami me Kamiyabi
Urdu · 6 min
ناکامی میں کامیابی۔ موہن سنگھ اوبراہے 10 اگست 1900 کو جھیلم کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے، ان کے باپ پشاور میں ٹھیکیداری کا کام کرتے تھے۔ مگر مسٹر اوبراہے ابھی صرف 6 مہینے کے تھے کہ ان کے باپ کا انتقال ہو گیا۔ باپ کے مرنے کے بعد مسٹر اوبراہے بے وسیلہ ہو کر رہ گئے۔
بڑی مشکلوں سے انہوں نے سرگودھا سے میٹرک کیا اور لاہور سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد مالی دشواری کی بنا پر وہ تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ مسٹر اوبراہے نے اپنی زندگی کے حالات لکھے ہیں، جو ٹائمز آف انڈیا کے سنڈے ایڈیشن 12 اگست 1900 میں چھپے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ انٹرمیڈیٹ کے بعد جب میں نے دیکھا کہ اب میں مزید تعلیم حاصل نہیں کر سکتا تو یہ میری زندگی میں بڑی تشویش کا لمحہ تھا۔
کیونکہ میں نے محسوس کیا کہ موجودہ تعلیمی لیاقت کے ذریعے میں کوئی سروس حاصل نہیں کر سکتا۔ This was a moment of anxiety in my life as I realized that my qualifications would not get me a job. سروس سے محرومی انہیں بزنس کے میدان میں لے گئی۔ یہ کاروباری جدوجہد کی ایک لمبی کہانی ہے جس کو مذکورہ اخبار میں دیکھا جا سکتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ 1924 میں وہ معمولی طور پر ایک ہوٹل کے کام میں شریک ہوئے۔ 1939 میں جب دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی تو وہ کلکتہ میں اپنا ایک ہوٹل شروع کر چکے تھے۔ ان کا کام بڑھتا رہا، یہاں تک کہ آج وہ ایک ہوٹل ایمپائر کے مالک ہیں۔ ہندوستان کے اکثر بڑے شہروں میں ان کے ہوٹل اوبراہے کے نام سے قائم ہیں۔
اس کے علاوہ سنگاپور، سعودی عرب، سری لنکا، نیپال، خلیج مصر اور افریقہ میں ان کے بڑے بڑے ہوٹل کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ مسٹر اوبراہے کو سروس کے میدان میں جگہ نہیں ملی تو انہوں نے بزنس کے میدان میں اس سے زیادہ بڑی جگہ اپنے لیے حاصل کر لی۔ یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ یہاں کامیاب وہ ہوتا ہے جو گرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کی صلاحیت کا ثبوت دے سکے۔
اگر ایک میدان میں آپ کو مواقع نہ ملیں تو دوسرے میدان میں محنت شروع کر دیجیے۔ عین ممکن ہے کہ آپ دوسرے میدان میں وہ سب کچھ پا لیں جس کی امید آپ پہلے میدان میں کیے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر سالم علی 1896 تا 1987 کو علمِ طیور یعنی Ornithology میں غیر معمولی مقام ملا۔ ہندوستان نے ان کو پدما بھوشن کا خطاب دیا۔
برطانیہ نے ان کو گولڈ میڈل سے نوازا۔ ہالینڈ نے ان کو گولڈن آرک عطا کیا۔ عالمی ادارہ وائلڈ لائف نے ان کو انعام کے طور پر 50,000 ڈالر دیے۔ ہندوستان کی تین یونیورسٹیوں نے اعزازی طور پر ان کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی۔
وہ راجیہ سبھا کے ممبر بنائے گئے، وغیرہ۔ ڈاکٹر سالم علی کو یہ غیر معمولی کامیابی ایک غیر معمولی ناکامی کے ذریعے حاصل ہوئی۔ وہ بمبئی کے ایک گنجان علاقہ کھیتواڑی میں پیدا ہوئے۔ بی اے تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہیں روزگار کی ضرورت ہوئی۔
مگر جب وہ روزگار کی تلاش میں نکلے تو ان کے الفاظ میں ہر ادارے اور ہر دفتر میں ان کے لیے جگہ نہیں۔ No vacancy کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اس ناکامی نے ان کے لیے نئی کامیابی کے راستے کھول دیے۔ ایک روز انہوں نے ایک چھوٹی چڑیا پکڑی۔
اس کو دیکھا تو اس میں ایک غیر معمولی خصوصیت نظر آئی۔ اس کی گردن پیلے رنگ کی تھی۔ انہوں نے اس کی تحقیق شروع کر دی۔ انہوں نے علمِ طیور کے موضوع پر بہت سی کتابیں پڑھ ڈالیں۔
ان کی دلچسپی بڑھتی گئی، یہاں تک کہ انہوں نے ایک دستی دوربین حاصل کی۔ اب ان کا کام یہ ہو گیا کہ ادھر ادھر جا کر چڑیوں کا مشاہدہ کریں اور ان کے حالات اپنے ڈائرے میں لکھیں۔ آخر کار انہوں نے علمِ طیور میں اتنی مہارت پیدا کی کہ خود اس فن کو نئی جہتوں اور نئی وسعتوں سے آشنا کیا۔ ان کی دو کتابیں بہت مشہور ہیں۔
ایک کتاب میں انہوں نے برصغیر ہند کی 1200 چڑیوں کے حالات لکھے ہیں۔ ان کی دوسری کتاب طیورِ ہند یعنی انڈین برڈز ہے جو 11 بار چھپ چکی ہے اور عالمی سطح پر پڑھی جاتی ہے۔ ڈاکٹر سالم علی کو زمینی ادارے میں جگہ نہیں ملی تھی۔ انہوں نے آسمانی مشاہدے میں اپنے لیے زیادہ بہتر کام تلاش کر لیا۔
ان کو ملکی ملازمت میں نہیں لیا گیا تھا، مگر اپنی اعلیٰ کارکردگی کے ذریعے وہ عالمی اعزاز کے مستحق قرار پائے۔ کتاب تعمیرِ حیات مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 278۔