Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Dushman me Dost

Urdu · 6 min

دشمن میں دوست۔ ڈاکٹر سید عبداللطیف، 1891 تا 1971، کرنول، دکن میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے انگریزی ترجمۂ قرآن اور دوسری خدمات کی وجہ سے کافی مشہور ہیں۔ وہ مقامی ہائی اسکول میں اپنے والد کی اطلاع کے بغیر داخل ہو گئے تھے۔

والد کو انگریز اور انگریزی تعلیم سے سخت نفرت تھی۔ ان کو معلوم ہوا تو غصہ ہو گئے اور درشت لہجے میں پوچھا کہ انگریزی پڑھ کر کیا کرے گا۔ دبلے پتلے، پست قامت لڑکے نے جواب دیا: "انگریزی پڑھ کر قرآن کا ترجمہ انگریزی زبان میں کروں گا۔ " 1915 میں انہوں نے بی اے کا امتحان امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔

1920 میں جامعہ عثمانیہ حیدرآباد میں انگریزی کے استاد مقرر ہوئے۔ 1922 میں ان کے لیے نیا تعلیمی موقع پیدا ہوا، جبکہ جامعہ عثمانیہ کے چار استادوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ بھیجنا طے پایا، اور ان کے لیے ریاست کی طرف سے 30,000 روپئے کا بلا سودی قرض منظور کیا گیا۔ ان میں سے ایک سید عبداللطیف بھی تھے۔ لندن پہنچ کر وہ وہاں بی اے، یعنی آنرز، میں داخلہ لینا چاہتے تھے، مگر کنگز کالج کے صدر شعبۂ انگریزی اور دوسرے انگریز اساتذہ آپ کی صلاحیت سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ آپ کو بی اے اور ایم اے سے مستثنیٰ کرتے ہوئے براہِ راست پی ایچ ڈی کرنے کی اجازت دے دی۔

آپ کے مقالے کا عنوان "اردو ادب پر انگریزی ادب کے اثرات" طے پایا۔ مقالے کی تیاری کی مدت 3 سال مقرر کی گئی تھی، مگر آپ نے 2 سال ہی میں پی ایچ ڈی کے مقالے کی تکمیل کر لی۔ کنگز کالج کے ذمہ داروں نے اس کو منظور کرتے ہوئے ڈاکٹریٹ کا مستحق قرار دیا۔ سید عبداللطیف مقررہ مدت سے 1 سال پہلے ڈاکٹر ہو کر حیدرآباد واپس آ گئے۔

یہاں آپ کو فوراً جامعہ عثمانیہ کا پروفیسر بنا دیا گیا۔ انجمن از حسن الدین احمد، آئی اے ایس، 1974، صفحہ 85 تا 86۔ 1922 میں انگریز کو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن سمجھا جاتا تھا، مگر اسی دشمن نے مسلمان طالب علم کے ساتھ فیاضی کا وہ معاملہ کیا جس کی مثال مسلم اداروں میں بھی مشکل سے ملے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ دشمن انسان کے اندر بھی دوست انسان موجود ہوتا ہے، مگر اس دوست انسان کو وہی لوگ پاتے ہیں جو دوستی اور دشمنی سے اوپر اٹھ کر انسانوں سے معاملہ کرنا جانتے ہوں۔

عام مزاج یہ ہے کہ لوگ اپنوں کو اپنا اور غیروں کو غیر سمجھتے ہیں، مگر کھلے دل والے انسان کے لیے ہر ایک اس کا اپنا ہے، کوئی اس کا غیر نہیں۔ سوامی رام تیرتھا، 1873 تا 1906، نہایت قابل آدمی تھے۔ ان کا ایک بہت بامعنی قول ہے: "زندگی کے سب دروازوں پر لکھا ہوا ہوتا ہے: کھینچو، مگر اکثر ہم اسے دھکا دینا شروع کر دیتے ہیں۔ " سوامی رام تیرتھا، روانی کے ساتھ انگریزی بولتے تھے۔

وہ دھرم کے پرچار کے لیے 1903 میں امریکہ گئے۔ ان کا جہاز سان فرانسسکو کے سمندری ساحل پر لنگر انداز ہوا۔ وہ اترے تو ایک امریکی ازراہِ تعارف ان کے قریب آیا۔ اس کے بعد جو گفتگو ہوئی وہ یہ تھی: "آپ کا سامان کہاں ہے؟

" امریکی نے پوچھا۔ "میرا سامان بس یہی ہے۔ " سوامی رام تیرتھا نے جواب دیا۔ "اپنا روپیہ پیسہ آپ کہاں رکھتے ہیں؟

" "میرے پاس روپیہ پیسہ ہے ہی نہیں۔ " "پھر آپ کا کام کیسے چلتا ہے؟ " "میں سب سے پیار کرتا ہوں، بس اسی سے میرا سب کام چل جاتا ہے۔ " "تو امریکہ میں آپ کا کوئی دوست ضرور ہوگا۔

" "ہاں، ایک دوست ہے، اور وہ دوست یہ ہے۔ " سوامی رام تیرتھ نے یہ کہا اور اپنے دونوں بازو امریکی شخص کے گلے میں ڈال دیے۔ امریکی ان کی اس بات سے بہت متاثر ہوا۔ اس کے بعد وہ امریکی ان کا اتنا گہرا دوست بن گیا کہ وہ انہیں اپنے گھر لے گیا اور سوامی رام تیرتھا جب تک امریکہ میں رہے، وہ برابر ان کے ساتھ رہا اور ان کی خدمت کرتا رہا، حتیٰ کہ وہ ان کا شاگرد بن گیا۔

اس دنیا میں محبت سب سے بڑی طاقت ہے۔ محبت کے ذریعے آپ اپنے مخالف کو جھکا سکتے ہیں اور ایک اجنبی شخص کو اپنا بنا سکتے ہیں، بشرطیکہ آپ کی محبت سچی محبت ہو، وہ دکھاوے اور نمائش کے لیے نہ ہو۔ کتاب "تعمیر حیات"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 275۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.