← Tameer-e-HayatTameer-e-Hayat
Ghar se Mahrumi
Urdu · 7 min
گھر سے محرومی۔ 28 مارچ 1995 کو دہلی میں ایک بڑا دردناک واقعہ ہوا۔ مسز اندوواہی 61 سال نے کستور باغ گاندھی مارگ کی بلڈنگ "ایشیا ہاؤس" کی 8ویں منزل سے کود کر خودکشی کر لی۔ نیچے آتے ہی ان کا پورا جسم کچل اٹھا اور فوراً ہی ان کا انتقال ہو گیا۔
مسز اندوواہی آل انڈیا ریڈیو کے ہندی شعبے میں چیف نیوز ریڈر تھیں۔ پچھلے سال ان کو وہاں سے ریٹائرمنٹ مل گیا۔ ایشیا ہاؤس ایک سرکاری بلڈنگ ہے، اس کی پہلی منزل پر ان کو 2 کمروں کی ایک فلیٹ بطور رہائش ملا ہوا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اب انہیں یہ فلیٹ خالی کرنا تھا، جس میں وہ پچھلے 20 سال سے رہ رہی تھیں۔
فلیٹ چھوڑنے کی آخری تاریخ 31 مارچ تھی۔ ان کے شوہر کا انتقال 1989 میں ہو گیا تھا۔ اب وہ اپنی بیٹی سونیا اور اپنے داماد اشوک کمار کے ساتھ یہاں رہ رہی تھیں۔ ہندوستان ٹائمز، 29 مارچ 1995۔
ریٹائرمنٹ کے بعد اندوواہی بہت پریشان تھیں۔ انہوں نے اگرچہ جمنا پارک کی ریڈیو کالونی میں اپنا ایک گھر بنا لیا تھا، مگر ان کو یہ خیال پریشان کیے ہوئے تھا کہ موجودہ سرکاری فلیٹ کیناٹ پلیس کے علاقے میں ہے اور اس کی وجہ سے انہیں بہت سی سہولتیں حاصل ہیں۔ مگر جمنا پارک جانے کے بعد وہ ان شہری سہولتوں سے محروم ہو جائیں گی۔ یہ احساس ان پر اتنا زیادہ طاری ہوا کہ ایشیا ہاؤس کی آخری منزل پر چڑھ کر انہوں نے خودکشی کی چھلانگ لگا دی۔
میں نے اس خبر کو پڑھا تو اچانک میری زبان سے نکلا کہ انسان آج اچھے گھر کو چھوڑ کر معمولی گھر میں جانے کو برداشت نہیں کر پاتا۔ اس دن انسان کا کیا حال ہوگا جب وہ ہر قسم کے گھر سے محروم کر دیا جائے گا۔ انسان خودکشی نہ کرے تب بھی اس پر موت آنی ہے۔ موت کے بعد اچانک وہ محسوس کرے گا کہ اس کا تمام اثاثہ اس سے چھن چکا ہے۔
اس دن تمام گھر والے بے گھر ہو چکے ہوں گے۔ اس دن گھر والا صرف وہ ہوگا جس سے خدا خوش ہو اور اپنی طرف سے اس کو ایک گھر عطا کرے، اور اس کو اپنی جنت میں قیام کی اجازت دے دے۔ صورتحال نے ثابت کیا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ پہلے کوئی انقلاب برپا کیا جائے۔ تب ہی مذکورہ مقاصد حاصل ہوں گے۔
میں اپنے زمانے میں موریتانیہ کے اندر 5 یا 6 انقلابات دیکھ چکا ہوں۔ یہی حال یمن اور سوڈان کا ہے۔ میں نے حکمرانوں کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے۔ یمن میں الشعبی، سالم البیض، صالح علی انتر، عبدالفتاح الغثنی الحمدی—یہ سب میرے معاصر رہے ہیں۔
اسی طرح سوڈان میں مثلاً نمیری تھے، ان کے بعد صادق المہدی آئے، پھر عبدالرحمن سوار الذہب اور سوار الذہب اور سوار الفضہ۔ میرے زمانے میں کئی انقلابات، حکمرانوں کے قتل اور حکومتوں کی تبدیلی کے واقعات ہوئے، مگر وہ سب کے سب بے سود ثابت ہوئے۔ جس چیز کو بدلنا اور ترقی دینا ممکن ہے، وہ ہمارا موجودہ طریقہ کار ہے تاکہ وہ یورپ کی طرح ہو جائے۔ یعنی اتحاد کے حصول کے لیے بات چیت کے ذریعے یقین دہانی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
اس طریقے کو استعمال کر کے ہم عرب لیگ کے دستور کو بدل سکتے ہیں، اور اپنے درمیان ایک اقتصادی اور دفاعی اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔ ہر شخص جہاں ہے، وہ وہیں رہے۔ بادشاہ اپنی جگہ، صدر اپنی جگہ، سلطان اپنی جگہ۔ کیونکہ تجربے سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس قسم کی علامتوں کو ہٹانا ہمارے مسئلے کا حل نہیں۔
جہاں تک جنگ فلسطین کا معاملہ ہے، تو اس سلسلے میں جنوبی افریقہ کو دیکھیے، جہاں جنگ کے بغیر اسی نوعیت کا مسئلہ حل کر لیا گیا۔ جبکہ اس سے پہلے میرا کہنا تھا کہ سفید فام نسل کو نابود کیے بغیر وہ حل ہونے والا نہیں۔ آزادی فلسطین کے لیے بھی ضروری نہیں کہ ہم جنگ چھیڑیں۔ اگر فلسطینی لوگ اپنی سرزمین میں واپس آ جائیں اور ان کی 5 یا 6 ملین تعداد یہودیوں کے ساتھ ایک جمہوری نظامِ حکومت میں شرکت پر راضی ہو جائے، تو بالآخر ان کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو جائے گا۔
معمر قذافی نے لیبیا کے سابق شاہ ادریس کو ملک کی خرابیوں کا اصل سبب سمجھا اور فوجی انقلاب کے ذریعے 1967 میں ان کا خاتمہ کر دیا۔ مگر انقلاب کے باوجود وہ نتائج حاصل نہ ہو سکے جو اس سے متوقع تھے۔ یہی حال اکثر مسلم ملکوں میں ہوا ہے۔ ہر انقلاب صرف افراد کی تبدیلی کے ہم معنی ثابت ہوا، نہ کہ حالات کی تبدیلی کے ہم معنی۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی حکمران کو برائی کی علامت قرار دے کر اس کے خلاف مہم چلانا ایک طفلانہ حرکت ہے۔ اس قسم کی تحریکیں اپنے نتیجے کے اعتبار سے صرف تخریبی تحریکیں ہیں۔ ان کو انقلابی اور اصلاحی تحریک وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس کو نہ تاریخ کی خبر ہو اور نہ انسانی نفسیات کی۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 226۔