Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Jaann-e-ki Koshish

Urdu · 5 min

جاننے کی کوشش، نوجوانی کی عمر میں، جب کہ ابھی میں پڑھ رہا تھا۔ ہماری کلاس میں ایک روز اونٹ کا ذکر آیا، اس کے بعد استاد نے پوچھا: "یہ بتاؤ کہ اونٹ کے سم پھٹے ہوتے ہیں یا جڑے ہوئے ہوتے ہیں؟ " یعنی بیل کے سم کی طرح پھٹے ہوئے، یا گھوڑے کی سم کی طرح جڑے ہوئے؟ ہماری کلاس میں اس وقت دو درجن اسٹوڈنٹ تھے، مگر کوئی بھی یقین کے ساتھ اس کا جواب نہ دے سکا۔

محض اٹکل کے تحت کسی نے کہا کہ پھٹے ہوئے ہوتے ہیں، کسی نے کہا کہ جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد استاد نے ایک تقریر کی، انہوں نے کہا کہ یہ ایک سادہ سوال تھا، مگر تم میں سے کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ اس کا جواب نہ دے سکا۔ اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ تم اونٹ کے سم کے بارے میں نہیں جانتے، اور تم اپنے اس نہ جاننے کو بھی نہیں جانتے۔

یہی بات ہے جو عربی زبان کی ایک مثل میں اس طرح کہی گئی ہے: "لا أدري نصف العلم" یعنی "میں نہیں جانتا" یہ کہنا آدھا علم ہے۔ استاد نے کہا: "جب میں نے تم لوگوں سے پوچھا کہ اونٹ کے سم پھٹے ہوتے ہیں یا جڑے، تو تم میں سے کسی شخص نے بھی یہ نہیں کہا کہ میں نہیں جانتا، حالانکہ تجربے سے معلوم ہوا کہ تم اس سے بے خبر تھے۔ اگر تم اپنے اس نہ جاننے کو جانتے، تو تمہارے اندر وہ چیز پیدا ہو جاتی جس کو اسپرٹ آف انکوائری کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد تم کو اس کے بارے میں جاننے کا شوق ہو جاتا۔

جب بھی تمہارے سامنے سے اونٹ گزرتا، تو تم فوراً اس کے سم کو دیکھتے، اور پھر تم کو یقین کے ساتھ معلوم ہو جاتا کہ اونٹ کے سم کیسے ہوتے ہیں، پھٹے یا جڑے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بیشتر لوگ اپنی بے خبری سے واقف نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بے خبری کی حالت میں پڑے رہتے ہیں، اور کبھی اس سے نکل نہیں پاتے۔ کسی انسان کے لیے اسپرٹ آف انکوائری کی بے حد اہمیت ہے۔

علم کا آغاز اپنی بے خبری کو جاننے سے ہوتا ہے۔ جو آدمی اپنے نہ جاننے کو جانے، وہ کوشش کر کے اپنے علم کو بڑھاتا رہتا ہے۔ وہ ہر چیز کو تجسس کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اس کے برعکس جس آدمی کو اپنے نہ جاننے کی خبر نہ ہو، وہ بدستور بے خبری کی حالت میں پڑا رہے گا۔

وہ اپنے نہ جاننے کو جاننا بنانے میں ناکام رہے گا۔ سائنس کی تمام تحقیقات اس اسپرٹ آف انکوائری کا نتیجہ ہیں۔ موجودہ زمانے میں، کائنات یا نیچر کے بارے میں انسان کو جو ان گنت معلومات حاصل ہوئی ہیں، وہ سب اسی اسپرٹ آف انکوائری کی بدولت ممکن ہو سکی ہیں۔ کائنات کی یہ چیزیں لاکھوں سال سے یہاں موجود تھیں۔

مگر قدیم زمانے کا انسان ہر چیز کو بلا تحقیق مان لینے کا عادی تھا۔ عدم تلاش کا یہی جذبہ کائنات کے بھیدوں تک پہنچنے میں رکاوٹ بنا رہا۔ موجودہ زمانے میں مختلف اسباب کے تحت ایسا ہوا کہ انسان ہر چیز کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کرنے لگا۔ اس کا نام اسپرٹ آف انکوائری ہے، اور اسی اسپرٹ آف انکوائری نے انسان کو موجودہ تمام دریافتوں تک پہنچایا ہے۔

آدمی خواہ جو ترقی بھی حاصل کرنا چاہتا ہو، اس میں اس کے لیے اسپرٹ آف انکوائری کی بے حد اہمیت ہے۔ کسی آدمی کے اندر یہ جذبہ جتنا زیادہ بیدار ہوگا، اتنا ہی زیادہ وہ اپنی معلومات کو بڑھائے گا، اور اتنا ہی زیادہ وہ ترقی کرتا چلا جائے گا۔ موجودہ زمانے کو معلومات کا دور، ایج آف انفارمیشن کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں معلومات کا دائرہ بے حد وسیع ہو گیا ہے۔

ایسی حالت میں اسپرٹ آف انکوائری کی اور بھی زیادہ ضرورت ہے۔ پہلے زمانے میں تھوڑی کوشش سے آدمی زیادہ پا لیتا ہے، اب زیادہ کوشش کے بعد بھی وہ صرف کم کو پا سکتا ہے۔ ایسی حالت میں معلومات کو بڑھانے کا کام موجودہ زمانے میں ہمیشہ سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ کافی معلومات کے بغیر موجودہ زمانے میں کوئی بڑی ترقی ممکن نہیں۔

کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 228۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.