Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Insan ki Taaqat

Urdu · 7 min

انسان کی طاقت۔ بمبئی کے ایک 18 سالہ مسیحی نوجوان نے خودکشی کر لی، اس کا نام گرین ویل گومز تھا۔ اخبارِ رپورٹ کے مطابق اُس سال اس نے ایچ ایس سی کا امتحان پاس کیا تھا، اب وہ بی کام میں داخلہ لینا چاہتا تھا، مگر اس کو بتایا گیا کہ 15,000 روپیہ عطیہ دیے بغیر اس کا داخلہ نہیں ہو سکتا۔ گومز کے ذہن کو اس سے بہت سخت جھٹکا لگا، یہاں تک کہ پریشانی کے عالم میں اس نے خودکشی کر لی۔

روزنامہ ہندوستان، بمبئی، جولائی 1993۔ دوسری طرف اسی ملک میں ایک اور مثال موجود ہے۔ دوسری طرف اسی ملک میں ایک اور مثال موجود ہے۔ ایک شخص کو اپنے بیٹے کے علاج کے لیے اچھے اسپتال میں داخلہ نہیں ملا، صرف اس لیے کہ اچھے اسپتال کی قیمت ادا کرنے کے لیے اس کی جیب میں پیسے نہیں تھے۔

اُس آدمی نے طے کیا کہ میں خود ایک ایسا اسپتال کھولوں گا جو اچھا بھی ہوگا اور اسی کے ساتھ اس میں داخلے سے کوئی شخص اس لیے محروم نہیں رہے گا کہ وہ اس کی فیس نہیں ادا کر سکتا تھا۔ وہ اس مہم میں لگ گیا، یہاں تک کہ وہ ایسا ایک اسپتال قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ اسپتال آج کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے، ہزاروں لوگ اس سے معالجاتی فائدہ حاصل کر چکے ہیں۔ اس طرح کے فیصلہ کن مواقع ہر شخص کی زندگی میں آتے ہیں۔

اس وقت اس کا ذہن جس جس طرف مڑ جائے، اُس وقت اس کا ذہن جس طرف مڑ جائے، بس اسی طرف وہ چلنے لگتا ہے۔ ایسے مواقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کو ایسا تعمیری رہنما مل جائے جو اس کو منفی سمت میں مڑنے سے بچا سکے، جو اس کو وہاں فکری سہارا دے جہاں اس کا اپنا ذہن سوچنے میں عاجز ثابت ہو رہا ہے۔ مذکورہ نوجوان کے لیے یہ بھی ممکن تھا کہ وہ اپنی زندگی میں پیش آنے والے تعلیمی مواقع کو رکاوٹ کے بجائے چیلنج سمجھے۔ وہ 15,000 روپیے کا عطیہ مانگنے والوں سے کہے کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ تم میرا راستہ روک سکتے ہو تو تم بہت بڑی بھول میں مبتلا ہو۔

تم انسان کو انڈر اسٹیمیٹ کر رہے ہو۔ ایک انسان کی طاقت اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ ایک انسان کی طاقت اس سے زیادہ ہوتی ہے کہ کوئی اس کی زندگی میں حائل ہو سکے، کوئی اس کو آگے بڑھنے سے روک دے۔ اس کے بعد وہ نوجوان یہ طے کرتا کہ میں ایک ایسا تعلیمی ادارہ کھولوں گا جہاں نوجوان طالب علموں کو عطیہ یا رشوت دیے بغیر داخلہ مل سکتا ہو۔

اگر وہ اس قسم کا فیصلہ کر کے اس کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیتا اور استقلال کے ساتھ اس مہم میں لگ جاتا تو عین ممکن تھا کہ وہ ایک نیا شاندار تعلیمی ادارہ بنانے میں کامیاب ہو جائے، جہاں عطیے کے بغیر صرف میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا جاتا ہو۔ اس دنیا میں ناکامی کا سب سے بڑا سبب بے حوصلگی ہے، اور کامیابی کا سب سے بڑا راز حوصلہ مندی۔ مذکورہ نوجوان کی خودکشی کا سبب یہ تھا کہ وہ بے ہمت ہو گیا۔ اگر وہ بے ہمت نہ ہوتا اور نئے تعلیمی ادارے کے قیام کو اپنا مشن بنا لیتا تو وہ دیکھتا کہ اسی دنیا میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اس کی حمایت کریں، جو اس کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کریں۔

پہلے تجربے میں بظاہر وہ اکیلا ہو گیا تھا، مگر دوسرے تجربے میں وہ اکیلا نہ رہتا۔ کسی شاعر نے صحیح کہا ہے کہ "سفر ہے شرط مسافر، نماز بہترے، ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہیں۔ " یہ شعر دہلی میں سب سے پہلے مجھے ایک تاجر نے سنایا تھا۔ وہ ایک تاجر خاندان میں پیدا ہوا، مگر بعض اسباب سے اس کے ساتھ یہ المیہ پیش آیا کہ وہ بالکل اکیلا ہو گیا۔

اس کے پاس دہلی میں نہ گھر رہا اور نہ کاروبار۔ یہ حادثہ اس کے ساتھ نوجوانی کی عمر میں پیش آیا۔ اس نے ہمت نہیں ہاری، وہ معمولی سامان لے کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔ صبح سے شام تک وہ محنت کرتا، اس کے بعد بمشکل چند روپیہ کماتا، مگر ہر قسم کے ناموافق حالات کے باوجود اس نے اپنی محنت جاری رکھی، یہاں تک کہ اس کو مددگار ملنے شروع ہو گئے۔

کسی تاجر نے اس کو ادھار مال دینا شروع کیا، کسی نے اس کو ایک دکان دلوا دی، کسی نے گھر حاصل کرنے میں مدد کی۔ اس طرح وہ ایک کے بعد ایک زندگی کے زینے طے کرتا رہا، یہاں تک کہ وہ دہلی کا ایک کامیاب تاجر بن گیا۔ آدمی اگر مستقل مزاجی کے ساتھ ایک راستے کو پکڑ لے اور اسی کے ساتھ وہ بااصول اور باکردار بھی ہو تو ایک نہ ایک دن وہ کامیاب ہو کر رہتا ہے۔ کوئی بھی چیز اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچنے سے روکنے والی نہیں۔

کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 224۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.