← Tameer-e-HayatTameer-e-Hayat
Asl Masala
Urdu · 7 min
اصل مسئلہ: مولانا شکیل احمد قاسمی، 38 سال، مدرسہ امداد الاسلام، میرٹھ میں صدر، مدرس اور شیخ الحدیث ہیں۔ 18 دسمبر 1993 کو دہلی میں ان سے ملاقات ہوئی، انہوں نے اپنا ایک تجربہ بتایا جو نہایت سبق آموز ہے۔ انہوں نے کہا کہ نومبر 1992 میں صدر بازار، میرٹھ، کے ایک تعلیم یافتہ ہندو، مسٹر اندر جیت سنگھ اہلووالیا، ان کے مدرسے میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ "میں اپنے دو لڑکوں، گورو اہلووالیا اور چارلی اہلووالیا، کو اردو اور عربی زبان پڑھانا چاہتا ہوں، آپ ان کے لیے کسی ٹیوٹر کا انتظام کر دیں۔
" مولانا قاسمی نے پوچھا کہ آپ ان بچوں کو اردو، عربی کیوں پڑھانا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرے بچوں میں کھلا ذہن پیدا ہو، وہ تنگ نظری سے اوپر اٹھ کر سوچنے والے بنیں۔ واضح ہو کہ مسٹر اندر جیت سنگھ اہلووالیا کا تعلق آر ایس ایس سے ہے، اور وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایکٹو ممبر ہیں۔ مولانا شکیل احمد قاسمی نے سوچا کہ اگر میں مدرسے کے کسی طالب علم کو اس کام پر مقرر کروں تو شاید وہ ٹھیک سے اس کو انجام نہ دے سکے، چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود ہی اس کام کو کریں گے۔
انہوں نے جب مسٹر اہلووالیا سے یہ بات کہی تو ان کو بہت تعجب ہوا۔ تاہم مولانا قاسمی کے اصرار پر انہوں نے اس کو قبول کر لیا۔ اب انہوں نے پوچھا کہ مولانا صاحب، ہم کو ماہوار کتنا دینا ہوگا؟ مولانا قاسمی نے کہا کہ کچھ نہیں، یہ تو میرے لیے ایک خوشی کا کام ہے۔
میرے لیے یہی قیمت کافی ہے کہ ایک ایسے حلقے میں جہاں اردو ختم ہو رہی ہے، وہاں کچھ لوگ اردو اور عربی جاننے والے پیدا ہو جائیں گے۔ غرض کچھ دیر کی بحث کے بعد طے ہو گیا کہ مولانا قاسمی ان کے گھر پر جا کر ان کے بچوں کو اردو پڑھایا کریں گے۔ مولانا شکیل احمد قاسمی نے مولانا اسماعیل میرٹھی کی ریڈر سے ان بچوں کو اردو پڑھانا شروع کیا۔ یہ سلسلہ یکم دسمبر 1992 کو شروع ہوا، اور اب تک وہ بدستور جاری ہے۔
اس مدت میں ان ہندو بچوں نے کئی ریڈریں ختم کر لی ہیں۔ وہ اب صحیح املا لکھ لیتے ہیں، اور اردو اخبار مثلاً قومی آواز کو آسانی سے پڑھ لیتے ہیں۔ اب انہوں نے منہاج العربية کے ذریعے سے عربی پڑھنا شروع کر دیا ہے۔ اس وقت وہ منہاج العربية کا دوسرا حصہ پڑھ رہے ہیں۔
ان کے گھر میں اردو کا اتنا چرچا ہوا کہ اب خود مسٹر اندر جیت سنگھ اہلووالیا نے بھی مولانا قاسمی سے اردو پڑھنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے اردو کتابوں کے علاوہ بازار سے زخیم فیروزاللغات بھی خرید لی ہے، تاکہ اردو سیکھنے میں وہ ان کے لیے معاون ہو سکے۔ اس تعلیم کا مزید اثر یہ ہوا ہے کہ اہلووالیا فیملی میں اردو تہذیب آنا شروع ہو گئی ہے۔ وہ لوگ گفتگو میں "ان شاء اللہ"، "ماشاء اللہ"، "خدا حافظ" جیسے الفاظ کو استعمال کرنے لگے ہیں۔
مسٹر اہلووالیا ہر طرح مولانا شکیل احمد قاسمی کی خدمت کرتے رہتے ہیں۔ وہ ہر موقع پر ان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار رہتے ہیں۔ مثلاً مسٹر اہلووالیا ایک ہندو علاقے میں رہتے ہیں، چنانچہ مولانا قاسمی جب ان کے یہاں سے پڑھا کر نکلتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کو ان کے ساتھ دور تک بھیجتے ہیں، تاکہ لوگ انہیں اجنبی محسوس نہ کریں۔ یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ موجودہ ہندوستان میں ہمارا مسئلہ کیا ہے۔
موجودہ ہندوستان میں ہمارا مسئلہ ہندو فرقہ واریت نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ ہندو-مسلم دوری ہے۔ اگر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کسی بھی ذریعے سے ملنا جلنا شروع ہو جائے تو اس کے بعد تمام مسائل اس طرح ختم ہو جائیں گے جیسے کہ وہ تھے ہی نہیں۔ دوری غلط فہمی پیدا کرتی ہے، اور قربت سے دوستی پیدا ہوتی ہے۔ عام تجربہ ہے کہ جہاں ہندوؤں اور مسلمانوں میں دوری آئی، وہاں ساتھ ساتھ غلط فہمیاں بھی آ گئیں۔
اور جہاں میل ملاپ بڑھا، وہاں اپنے آپ ایک دوسرے سے اچھے تعلقات قائم ہو گئے۔ 1947 سے پہلے ہندوستان زرعی دور میں تھا۔ اس وقت زراعتی زندگی کے تحت فطری طور پر ہندوؤں اور مسلمانوں میں بار بار ملنے کی صورتیں پیدا ہوتی تھیں۔ آزادی کے بعد ہندوستان میں صنعتی دور آ گیا۔
صنعتی دور کے تقاضے کے تحت خاندان منتشر ہو گئے، لوگ ادھر ادھر جانے لگے۔ اس طرح مشترک زندگی کا نظام ٹوٹ گیا۔ پچھلے تعلقات باقی نہیں رہے۔ موجودہ زمانے میں دونوں فرقوں میں دوری کا بڑا سبب یہی ہے۔
اس کا حل یہ ہے کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ تعلیمی اداروں میں جائیں، جدید اقتصادی اور سماجی سرگرمیوں میں بڑھ کر حصہ لیں۔ نیز اس انداز کے کام بھی کریں جس کی ایک مثال مولانا شکیل احمد قاسمی کا مذکورہ واقعہ ہے۔ اس کے بعد ان شاء اللہ دوبارہ میل ملاپ کا سابقہ دور واپس آ جائے گا۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 221۔