Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Mushkil nahi

Urdu · 5 min

مشکل نہیں۔ میری زندگی کا ایک بہت بڑا سبق وہ ہے جو مجھ کو خران سے ملا۔ اسلام کے شروع کے زمانے میں، جب مسلمان بہت تھوڑے تھے اور ان کے مخالفین ان کو بہت زیادہ ستاتے تھے، اس وقت ان کے ذہن میں یہ سوال تھا کہ مشکلات کے اس طوفان میں اپنا کام کس طرح کیا جائے۔ اس وقت خران میں ایک آیت اتری جس میں انہیں اس معاملے میں رہنمائی دی گئی۔

وہ آیت یہ تھی: "إِنَّمَا الْعُسْرُ يُسْرًا" سورہ نمبر 94، آیت 6۔ یعنی: مشکل سے نہ گھبراؤ، کیونکہ مشکل کے ساتھ ہی اس دنیا میں آسانی بھی موجود ہے۔ قرآن کی اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ مشکل کے بعد آسانی ہے، بلکہ یہ فرمایا کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ یعنی جہاں مشکل ہے، وہیں عین اسی وقت آسانی بھی موجود ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں پرابلم کے ساتھ اس کا حل بھی موجود ہو۔ جہاں پرابلم یا کٹھنائی ہو، وہیں ایسے مواقع، یعنی opportunities، بھی موجود ہوں جن کو استعمال کر کے آدمی آگے بڑھ سکے۔ اس دنیا میں پرابلم اور حل دو ایسے جڑواں بھائی ہیں جو کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔ میں اپنی زندگی میں کئی بار نقصان یا ناکامی سے دوچار ہوا ہوں، مگر میں نے ہر بار اسی اصول کو استعمال کیا۔

چنانچہ جب بھی میں نے غور کیا تو میں نے پایا کہ جہاں پرابلم پیدا ہوا، وہیں اس کا حل بھی موجود تھا۔ مثلاً یہ کہ جہاں اوسط درجے کی محنت سے کام نہ بن رہا ہو، وہاں آدمی زیادہ محنت کر کے اپنا کام بنا لے۔ میں نے ایک بار ایک منظر دیکھا: اسکول کے بچے، تقریباً 100 کی تعداد میں، اسکول سے نکل کر سڑک پر آ گئے۔ وہ فٹ پاتھ پر چلنا چاہتے تھے، مگر تنگ فٹ پاتھ پر وہ بھیڑ کی صورت میں نہیں چل سکتے تھے۔

انہوں نے اپنے استاد کی ہدایت پر یہ کیا کہ دو دو کی صورت میں لمبی قطار بنا لی۔ اس طرح وہ آسانی کے ساتھ فٹ پاتھ سے گزر گئے۔ ایسا نہیں ہوا کہ وہ پوری سڑک پر پھیل کر ٹریفک کے لیے مسئلہ پیدا کریں۔ ان طالب علموں کے لیے دائیں اور بائیں پھیلنے کا موقع نہیں تھا۔

انہوں نے آگے اور پیچھے پھیل کر اپنا راستہ طے کر لیا۔ اس واقعے کو دیکھ کر میں نے یہ سمجھا کہ مشکل میں آسانی ہونے کا مطلب کیا ہے۔ یہ ایک مثال ہے جو اس معاملے کو بہت خوبی کے ساتھ بتا رہی ہے۔ سڑک کے سفر کا یہ واقعہ زندگی کے دوسرے تمام معاملات میں رہنمائی دے رہا ہے۔

مشکل میں آسانی کا یہ معاملہ نیچر کا ایک اٹل قانون ہے۔ اس کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ نیچر کا یہ طریقہ ہے کہ جب بھی کہیں ایک مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ خود ہی اپنے آپ اس کے حل کی طرف دوڑ پڑتی ہے۔ وہ ایک خودکار نظام کی طرح مشکل کے ساتھ آسانی لاتی ہے۔

مثلاً ایک شخص جب کسی مشکل صورتحال سے دوچار ہوتا ہے تو نیچر کے پراسیس کے تحت اپنے آپ اس کے دماغ کے ذرات اور زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس کی ذہنی دنیا میں ایک نئی بیداری آ جاتی ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ سوچنے لگتا ہے۔ اس طرح وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ زیادہ بڑھی ہوئی سوچ اور زیادہ بڑھی ہوئی طاقت سے آئی ہوئی مشکل کو حل کر سکے۔

آپ کے راستے میں چٹان حائل ہو تو اس کے کنارے اپنا راستہ نکال لیجیے۔ ٹکراؤ کے ذریعے جو مسئلہ حل نہ ہو رہا ہو، اس کا حل صابرانہ تدبیر میں دریافت کیجیے۔ جہاں بولنا بظاہر کارآمد نہ ہو، وہاں خاموشی کا اسلوب اختیار کیجیے۔ جو کام جسمانی طاقت کے ذریعے بنتا ہوا نظر نہ آئے، وہاں عقل و دانش کی طاقت کو استعمال کیجیے۔

یہی موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کا واحد اصول ہے۔ اس دنیا میں کامیاب وہ ہے جو اس اصول کو دریافت کر کے اسے اپنے حق میں استعمال کرے۔ اور ناکام وہ ہے جو فطرت کے اس اصول کو دریافت نہ کر سکے اور نتیجتاً اپنے عمل کی درست منصوبہ بندی میں ناکام رہے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 215۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.