Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Nazarandaaz karna

Urdu · 6 min

نظرانداز کرنا۔ میرے اندر پیدائشی طور پر یہ بات ہے کہ میں ہر ایک کی بات کو غور سے سنتا ہوں، اور اس سے سبق لینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کا یہ فائدہ مجھے ملتا ہے کہ میں ہر ایک سے کچھ نہ کچھ کام کی بات سیکھ لیتا ہوں۔ ہر ایک سے مجھے کوئی ایسی تجربے کی بات مل جاتی ہے جس میں سب کے لیے فائدہ ہو۔

ایک بار میں ایک گاؤں میں تھا، میں نے دیکھا کہ گاؤں کے دو آدمی آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے دوست تھے، مگر ان میں سے ایک کو دوسرے سے کسی معاملے میں شکایت ہو گئی۔ جس آدمی کو شکایت تھی، وہ بار بار اپنی شکایت بیان کرتا تھا۔ دوسرے آدمی نے کافی کوشش کی کہ اس کی شکایت ختم ہو جائے، مگر جب اس نے دیکھا کہ شکایت ختم نہیں ہو رہی ہے تو اس نے کہا کہ شکایت والی بات کو بازو میں رکھ دو، اور پھر ہم دونوں پہلے کی طرح رہنے لگیں گے۔

یہ بظاہر ایک سادہ سی بات ہے، مگر وہ زندگی کا ایک بہت بڑا راز ہے۔ کوئی بھی دو آدمی ایک ڈھنگ کے نہیں ہوتے۔ جس طرح ایک آدمی کے انگوٹھے کا نشان دوسرے آدمیوں کے انگوٹھے کے نشان سے الگ ہوتا ہے، اسی طرح ہر آدمی اپنی سوچ، اپنے جذبات، اور اپنی پسند اور ناپسند کے لحاظ سے دوسرے تمام لوگوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اب اس فرق و اختلاف کے ساتھ سماج میں خوشگوار زندگی کیسے گزاری جائے؟

اس کا آسان فارمولا یہ ہے کہ جب کسی سے اختلاف پیدا ہو تو اس کو سمجھانے کی کوشش کی جائے، اور اگر سمجھانے کے بعد بھی اختلاف اور شکایت دور نہ ہو تو دونوں اس بات پر راضی ہو جائیں کہ دونوں شکایت والی بات کو بازو میں رکھ دیں گے۔ وہ ایک دوسرے سے اس پر بحث نہیں کریں گے۔ یہ فارمولا ہر جگہ کے لیے ہے، فیملی کے اندر بھی اور فیملی کے باہر بھی، اپنے لوگوں میں بھی اور اجنبی لوگوں میں بھی۔ اس دنیا میں سکھ کی زندگی بیتانے کا اس سے زیادہ آسان فارمولا اور کوئی نہیں۔

چونکہ ہر آدمی کی سوچ الگ الگ ہے، اس لیے یہ ناممکن ہے کہ آپ دوسروں کو بالکل اپنے خیال کے مطابق بنا سکیں۔ اختلاف ایک فطری حقیقت ہے، وہ کسی حال میں ختم ہونے والا نہیں۔ ایسی حالت میں اگر آپ اختلاف کو مٹانا چاہیں تو اختلاف کبھی مٹنے والا نہیں۔ ایسی کوشش صرف آپ کو مزید پریشانی میں مبتلا کرے گی، وہ کبھی آپ کو سکھ اور چین دینے والی نہیں۔

ایسی حالت میں قابلِ عمل فارمولا یہی ہے کہ شکایت والی بات کو بازو میں رکھ دیا جائے، اختلاف کے باوجود لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کی کوشش کی جائے۔ ہر آدمی سے آپ کو کوئی شکایت ہوتی ہے، اس کے ساتھ ہر آدمی میں کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں جو آپ کے لیے قابلِ شکایت نہ ہوں۔ اب آپ کو یہ کرنا ہے کہ شکایت والی بات کو بے شکایت والی بات سے الگ کر دیں۔ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتے ہی آپ محسوس کریں گے کہ دوسرا آدمی اسی طرح آپ کے لیے نارمل آدمی ہے جس طرح بہت سے دوسرے آدمی۔

موجودہ دنیا میں ہر آدمی مل جل کر رہنے پر مجبور ہے۔ تنہائی کی زندگی یہاں قابلِ عمل نہیں۔ آپ جب بھی دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہیں گے یا مل کر کام کریں گے تو لازمی طور پر کوئی نہ کوئی شکایت یا اختلاف سامنے آئے گا۔ اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ شکایت والی بات کو بھلا دیا جائے، اور بے شکایت والی باتوں کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ زندگی گزاری جائے۔

نظرانداز کرنا کوئی کمزوری کی بات نہیں۔ یہ زندگی کا ایک اعلیٰ اصول ہے۔ یہ ہر اس انسان کا طریقہ ہے جو اپنے سامنے کوئی بڑا مقصد رکھتا ہو۔ اس دنیا میں ناخوشگواریوں کو نظرانداز کرنے والے لوگ ہی آگے بڑھتے ہیں۔

جو لوگ نظرانداز نہ کر سکیں، وہ درمیان میں الجھ کر رہ جائیں گے۔ وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچیں گے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 213۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.