← Tameer-e-HayatTameer-e-Hayat
Positive Soach
Urdu · 5 min
पॉजिटिव सोच। स्वामी विवेकानंद, वफ़ात 1903 के हालात मैंने पढ़े, उनका एक वाक़िया बहुत पसंद आया। یہ واقعہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ وہ زندگی کا ایک راز ہے۔ وہ اس دنیا میں کامیابی کی کنجی ہے۔ स्वामीजी के एक मसीही दोस्त थे, वो स्वामीजी को बहुत मानते थे। ایک بار انہوں نے سوامی جی کا ٹیسٹ لینا چاہا، انہوں نے سوامی جی کو اپنے گھر پر کھانے کے لیے بلایا۔ سوامی جی جب ان کے یہاں پہنچے تو ان کو ایک کمرے میں بٹھایا گیا۔
اس کمرے میں ایک میز تھی، اس میز کے اوپر بہت سی مذہبی کتابیں ایک کے اوپر ایک رکھی ہوئی تھیں۔ سب سے نیچے گیتا تھی، جو ہندو دھرم کی مقدس کتاب ہے، اور اس کے اوپر دوسرے مذہبوں کی کتابیں۔ سوامی جی جب کمرے میں پہنچے تو ان کے میزبان نے کہا کہ سوامی جی، اس کو دیکھیے، اس پر آپ کا تبصرہ کیا ہے؟ ایک صورت یہ تھی کہ اس کو دیکھ کر سوامی جی بھڑک اٹھیں، وہ کہیں کہ میرے مذہب کی کتاب کو سب سے نیچے رکھ کر تم نے میرے مذہب کی بے عزتی کی ہے، کیا تم نے مجھے اسی توہین کے لیے بلایا تھا؟
اس کے بعد مہمان اور میزبان دونوں ایک دوسرے سے لڑ جاتے۔ لیکن سوامی جی نے ایسا نہیں کیا۔ وہ کتاب کے منظر کو دیکھ کر مسکرائے اور آہستگی کے ساتھ اپنے میزبان سے کہا، "فاؤنڈیشن تو بہت اچھی ہے۔ " The foundation is really good.
स्वामी विवेकानंद का यह वाक़िया बताता है कि उन्होंने मनफी वाक़िये को मुस्बत वाक़िये में ढाल लिया। ایک بات جو بظاہر ناخوشگوار تھی، اس کو انہوں نے خوشگوار صورت دے دی۔ یہی موجودہ دنیا میں زندگی کا راز ہے۔ یہاں پھول کے ساتھ کانٹے بھی ہیں۔ یہاں اچھے انسانوں کے ساتھ برے انسان بھی ہیں۔
اس لیے یہاں بار بار آدمی کو کڑوا بول سننا پڑتا ہے۔ یہاں آدمی کو نفرت کا تجربہ پیش آتا ہے۔ دوسروں کی طرف سے اس کو بے عزت کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں موجودہ دنیا میں کامیابی کا راز صرف یہ ہے کہ آدمی پھول کے ساتھ کانٹوں سے بھی نباہ کرنا جانتا ہو۔
وہ نفرت کرنے والوں سے بھی محبت کر سکے۔ وہ اپنے خلاف باتوں میں بھی ایسے پہلو تلاش کر لے جو اس کے لیے موافق اور مفید ہوں۔ میری زندگی کا تجربہ ہے کہ انسان پتھر نہیں ہوتا۔ ہر انسان کے سینے میں وہی نرم دل ہوتا ہے جو کسی دوسرے انسان کے سینے میں ہے۔
اس دنیا میں پیدا ہونے والا ہر انسان انسان ہے۔ کوئی بھی انسان پیدائشی طور پر بھیڑیا نہیں۔ اگر کوئی آدمی کسی وجہ سے کڑوا بول بولے تو آپ اس کے لفظ کو نہ دیکھیے، آپ اس کے سینے میں چھپے ہوئے نرم دل کو دیکھیے۔ آپ اس کے کڑوے بول کا اثر نہ لیتے ہوئے اس سے میٹھا بول بولیے۔
وہ آپ کو کانٹا دے تو آپ اس کو پھول کا تحفہ پیش کیجیے۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ وہی انسان جو بظاہر آپ کا دشمن دکھائی دے رہا تھا، وہ آپ کا دوست بن جائے گا۔ یہ تجربہ ہے کہ جب آدمی کے ساتھ کوئی پسند کے خلاف بات پیش آئے اور اس کو سن کر وہ غصہ ہو جائے تو اس کا اثر اس کی اپنی سوچ پر پڑتا ہے۔ اس کی عقل ٹھیک طور پر کام نہیں کر پاتی۔
اس کی وجہ سے وہ دوسروں کی بات کا زیادہ اچھا جواب نہیں دے پاتا۔ اگر آپ غصے کی بات پر غصہ نہ ہوں تو اس کا سب سے پہلا فائدہ خود آپ کو ملتا ہے۔ آپ کی عقل نارمل رہتی ہے۔ آپ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ کسی بات کا زیادہ اچھا جواب دے سکیں۔
جو آدمی غصے میں بھڑک اٹھے، وہ صرف پتھر پھینک سکتا ہے۔ مگر جو آدمی اپنے آپ کو غصے سے بچائے، وہ دلیل کی زبان میں بولے گا، اور دلیل کی زبان پتھر کی زبان سے ہزار گنا زیادہ طاقتور ہے۔ مثبت ذہن کا آدمی اپنے پورے امکانات کے ساتھ جیتا ہے، اور منفی ذہن کا آدمی صرف اپنے ادھورے امکانات کے ساتھ۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 211۔