← Tameer-e-HayatTameer-e-Hayat
Bil Wasta Fayeda
Urdu · 5 min
بالواسطہ فائدہ: اگر آپ اپنے کھیت میں دال کی فصل بوئیں تو اس کا ایک براہِ راست فائدہ ہوگا اور دوسرا بالواسطہ فائدہ۔ براہِ راست فائدہ یہ ہے کہ آپ کو اس سے دال کی فصل ملی، بالواسطہ فائدہ یہ ہے کہ اس کی جڑوں میں بیکٹیریا جمع ہوئے اور انہوں نے ہوا سے نائٹروجن لے کر زمین میں شامل کیا۔ اس طرح آپ کے کھیت کو نائٹروجن کی کھاد حاصل ہوگئی۔ اسی طرح ہر عمل کا کچھ براہِ راست فائدہ ہے اور کچھ بالواسطہ فائدہ۔
لوگ عام طور پر صرف براہِ راست فائدے کو دیکھتے ہیں، بالواسطہ فائدہ ان کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ براہِ راست فائدے کو پیشانی کی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے، مگر بالواسطہ فائدے کو دیکھنے کے لیے عقل و بصیرت کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ صرف پہلے فائدے کو دیکھ پاتے ہیں اور دوسرے فائدے کو دیکھنے اور جاننے سے محروم رہتے ہیں۔ اس دنیا میں بڑی کامیابیاں صرف ان لوگوں کے لیے مقدر ہیں جو براہِ راست فائدے سے اوپر اٹھ کر بالواسطہ فائدوں کو دیکھنے والی نگاہ رکھتے ہوں۔
کسی عمل سے براہِ راست فائدہ عام طور پر بہت کم ہوتا ہے۔ اس کا زیادہ فائدہ وہ ہے جو بالواسطہ طور پر برآمد ہوتا ہے۔ بالواسطہ فائدے نہ صرف یہ کہ آنکھوں سے چھپے ہوتے ہیں، مزید یہ کہ وہ نسبتاً زیادہ دیر میں ظاہر ہوتے ہیں۔ بالواسطہ فائدے بلاشبہ براہِ راست فائدے سے بہت زیادہ اہم اور عظیم ہوتے ہیں۔
براہِ راست فائدے کی گنتی کی جا سکتی ہے، مگر بالواسطہ فائدے کی گنتی کرنا ممکن نہیں۔ آپ کے گھر کے سامنے کی سڑک پر کوڑے کا ڈھیر ہو اور آپ اس کو صاف کرا دیں، تو اس کا براہِ راست فائدہ یہ ہے کہ آپ کے گھر کا سامنا صاف ہو گیا۔ مگر اس کا جو بالواسطہ فائدہ ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔ اس عمل نے آپ کے اندر مثبت طرزِ فکر پیدا کیا۔
آس پاس کے ماحول میں آپ کا وقار بڑھ گیا۔ سماج میں تعمیری قدروں کو فروغ حاصل ہوا۔ اخلاقی روایات قائم ہونے میں مدد لی۔ لوگوں کی دعائیں آپ کو ملنے لگیں۔
اس کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان آپ کا اعتماد قائم ہو گیا۔ اس کے بعد اگر آپ اپنے علاقے میں کوئی مفید کام کرنا چاہیں تو فوراً بہت سے لوگ آپ کے مددگار بن جائیں گے، کیونکہ آپ کے مذکورہ عمل کے بعد آپ نے لوگوں کے دل میں اپنے لیے ایک باعزت جگہ بنا لی تھی۔ جو لوگ کام کے صرف براہِ راست فائدے کو دیکھ پائیں، وہ صرف چھوٹا کام کر پاتے ہیں۔ کوئی بڑا کام کرنا ان کے لیے مقدر نہیں۔
بڑا کام صرف ان لوگوں کے حصے میں آتا ہے جو براہِ راست فائدے سے اٹھ کر بالواسطہ فائدے کو دیکھنے کی نظر رکھتے ہوں۔ بالواسطہ فائدے کو اہمیت دینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر وسعتِ نظر ہو۔ وہ مستقبل کی خاطر حال کو نظر انداز کر سکتا ہو۔ وہ آئندہ کے فائدے کی خاطر وقتی نقصان کو برداشت کر سکے۔
وہ ایک ایسے کام کو بھی کام سمجھے جس میں بظاہر دوسروں کو کریڈٹ ملنے والا ہو۔ وہ ایسی نظر رکھتا ہو جو نہ صرف دکھائی دینے والی چیزوں کو دیکھے، بلکہ وہ اس سے آگے بڑھ کر نہ دکھائی دینے والی چیزوں کو دیکھ سکتی ہو۔ بالواسطہ فائدے کے پیشِ نظر صرف وہ لوگ کام کر سکتے ہیں جن کے اندر دور اندیشی ہو۔ جو منصوبہ بند کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
جو نہ صرف اپنی ذاتی خواہشات سے واقف ہوں، بلکہ ان قوانینِ فطرت سے بھی واقف ہوں جو انسان سے باہر قائم ہیں اور خود اپنے طور پر چل رہے ہیں۔ آپ کو اگر بڑا کام کرنا ہے تو اس کے لیے سب سے پہلے بڑا دل پیدا کیجیے۔ بڑے دل کے بغیر کبھی بڑا کام نہیں ہو سکتا۔ بالواسطہ طریقے کو دوسرے لفظوں میں حکیمانہ طریقہ کہہ سکتے ہیں۔
اور اس دنیا میں حکیمانہ طریقے کے بغیر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ کتاب "تعمیرِ حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 209۔