← Tameer-e-HayatTameer-e-Hayat
Jaldi nahi
Urdu · 5 min
جلدی نہیں۔ جب میں نوجوان تھا اور یو پی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا، تو مجھے یہ شوق ہوا کہ میرے گھر کے آنگن میں آم کا ایک درخت ہو۔ اب ایک صورت یہ تھی کہ میں آم کا ایک چھوٹا پودا اپنے آنگن میں لگاؤں اور سالوں تک اس کے بڑھنے کا انتظار کروں۔ مگر نوجوانی کے جوش میں میں اس انتظار کے لیے تیار نہ تھا۔
میں چاہتا تھا کہ اچانک ہی میرے گھر میں آم کا ایک بڑا سا درخت دکھائی دینے لگے۔ وہاں میرا آموں کا باغ تھا۔ اس میں 5 سال کا ایک درخت تھا جو بڑھتے بڑھتے انسانی قد سے اونچا ہو چکا تھا اور خوب ہرا بھرا تھا۔ میں نے کئی مزدور اس پر لگا دیے۔
وہ دن بھر اس کی کھدائی کرتے رہے۔ آخر کار شام کو وہ درخت ایک بڑی چارپائی پر رکھ کر گھر کے اندر لایا گیا اور آنگن میں گڑھا کھود کر اس کو وہاں لگا دیا گیا۔ میں بہت خوش تھا کہ میں نے بڑا درخت لگا کر 5 سال کا سفر ایک دن میں طے کر لیا ہے۔ مگر رات کو سو کر جب میں صبح کو اٹھا تو درخت کے پتے مرجھائے ہوئے نظر آئے۔
لیکن ابھی میں مایوس نہیں ہوا۔ میں نے اس میں خوب پانی ڈالا۔ میں نے سمجھا کہ پانی پا کر اس کے پتے ہرے ہو جائیں گے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔
اگلے دن اس کے پتے اور زیادہ مرجھا گئے۔ یہاں تک کہ چند دنوں میں وہ درخت بالکل سوکھ گیا۔ نوجوانی کی عمر کا یہ تجربہ میرے لیے بہت سخت ثابت ہوا۔ وہ میرے لیے زندگی بھر کا تجربہ بن گیا۔
اس سے میرے اندر گہرائی کے ساتھ یہ سوچ پیدا ہوئی کہ زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ زندگی ایک لمبا سفر ہے اور اس کو ہر حال میں لمبے دنوں ہی میں پورا کرنا ہے۔ اس واقعے کے بعد مجھ پر یہ کھلا کہ دنیا میں انسان کا معاملہ ففٹی ففٹی جیسا ہے۔ یعنی دنیا میں جو کام بھی کرنا ہو اس میں ایک حصہ انسان کا ہوتا ہے اور دوسرا حصہ نیچر کا۔
دنیا میں ہر واقعہ انسان اور نیچر دونوں کی مطابقت سے پورا ہوتا ہے۔ انسان اگر جلدی چاہے اور نیچر کا طریقہ جلدی کا طریقہ نہ ہو تو ایسی حالت میں محض انسان کے چاہنے سے کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ اس واقعے نے مجھے ہمیشہ کے لیے اس معاملے میں محتاط بنا دیا۔ انسان اور نیچر کی مثال کاگ ویل جیسی ہے۔
کاگ ویل میں دونوں کاگ ایک ساتھ چلتے ہیں۔ اگر ایک کاگ اپنی رفتار کو دوسرے کاگ سے تیز کرنا چاہے تو سارا نظام بگڑ کر رہ جائے گا۔ انسان کا کاگ کمزور ہے اور نیچر کا کاگ طاقتور۔ ایسی حالت میں اگر انسان اپنی کاگ کی رفتار بڑھانا چاہے تو اس کا انجام صرف یہ ہوگا کہ انسان کا کاگ ٹوٹ جائے۔
کیونکہ نیچر کا کاگ تو اتنا طاقتور ہے کہ وہ کسی حال میں ٹوٹنے والا نہیں۔ درخت کے معاملے میں مجھ کو جو تجربہ ہوا وہ میری زندگی کا آخری تجربہ بن گیا۔ اس کے بعد پھر میں نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ جو کام دھیرے دھیرے ہونے والا ہو اس کو اچانک کرنا چاہوں۔ اس کے بعد ہر کام میں اس کے بعد ہر کام میں میں یہ سوچنے لگا کہ اس کا حقیقی سٹارٹنگ پوائنٹ کیا ہے۔
کیونکہ اس دنیا میں آپ درمیان سے یا آخر سے اپنا سفر شروع نہیں کر سکتے۔ آپ کو ہر حال میں وہیں سے اپنا سفر شروع کرنا ہے جہاں سے نیچر کے مطابق وہ شروع ہوتا ہے۔ جو نتیجہ کل نکلنے والا ہو اس نتیجے کو آج چاہنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ فطرت کے نظام سے لڑنے کے ہم معنی ہے۔
یہ دنیا کے اندر ایک اور دنیا بنانا ہے۔ اس قسم کی کوشش کبھی کامیابی تک پہنچنے والی نہیں۔ اس دنیا میں انسان کی ہر کامیابی فطرت کے نظام سے مطابقت کر کے حاصل ہوتی ہے۔ فطرت کے نظام سے لڑنے والا آدمی یہاں اپنے لیے کچھ نہیں پا سکتا۔
یہ ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس میں کوئی استثنا نہیں۔ کتاب تعمیر حیات مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 217۔