احتیاطی تدبیر فطرت کا ایک اصول پیشگی احتیاط ہے؛ اسی اصول کے تحت زندگی کے مختلف شعبوں میں احتیاطی تدابیر، یعنی precautionary measures، اختیار کی جاتی ہیں۔ اکثر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ اگر پیشگی تدبیر اختیار کر لی جائے تو متوقع حادثہ پیش نہیں آتا؛ مثال کے طور پر ہرنیا ایک بیماری ہے۔ جس آدمی کو یہ بیماری ہو جائے، اس کو آپریشن تھیٹر میں جانا ضروری ہو جاتا ہے، مگر اس بیماری کی پیشگی تدبیر تقریباً یقینی طور پر اس کو ظہور میں آنے سے روک دیتی ہے۔ یہ پیشگی کی تدبیر انڈرویئر کا استعمال ہے: ہرنیا کبھی اچانک نہیں ہوتا، اس کی ابتدائی علامت بہت پہلے سے ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
اگر آدمی ایسا کرے کہ ابتدائی علامت ظاہر ہوتے ہی وہ مخصوص انڈرویئر پہننا شروع کر دے، تو وہ اس بیماری میں مبتلا ہونے سے بچ جائے گا۔ موجودہ زمانے میں کھلاڑیوں کے استعمال کے لیے بہت عمدہ قسم کے انڈرویئر بنائے گئے ہیں؛ ان کو athletic supporter کہا جاتا ہے۔ یہ athletic supporter گویا نہایت مؤثر قسم کی پیشگی تدبیر ہے، جو ہرنیا کی بیماری سے بچاؤ کی تقریباً یقینی ضمانت ہے۔ اسی طرح اجتماعی جھگڑوں کے لیے بھی پیشگی تدابیر ہیں؛ یہ تدبیریں اجتماعی جھگڑوں کو روکنے میں نہایت مؤثر ہیں۔
مثلاً باہمی غلط فہمیوں کو دور کرنا، افواہوں کی بروقت تردید کرنا، ہر بستی میں امن کمیٹی بنانا، اختلاف پیدا ہونے کی صورت میں ٹکراؤ کے بجائے مفاہمت کا انداز اختیار کرنا، فریق ثانی کو دشمن سمجھنے کے بجائے اس کو ایک انسان سمجھ کر برادرانہ معاملہ کرنا۔ نزاع اگر عملاً پیش آ جائے تو لو اور دو کے اصول پر معاملے کو ختم کرنا۔ جس شخص یا گروہ کے ساتھ نزاع پیش آئی ہے، اس سے حریفانہ طریقے کے بجائے برادرانہ طریقہ اختیار کرنا وغیرہ۔ موجودہ دنیا کے خالق نے ہر معاملے میں پیشگی بچاؤ کے طریقے رکھ دیے ہیں؛ آدمی کو چاہیے کہ وہ ان طریقوں کو دریافت کرے اور ان کو استعمال کر کے اپنے آپ کو ان کی زد میں آنے سے بچا لے۔
کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 192۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.