Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Qanun-e-Hasht

Urdu · 4 min

قانونِ ہشت: اگر آپ ایک چوکور کاغذ کو لیں اور اس کو موڑنا شروع کریں، تو آپ صرف 8 موڑ تک اس کو موڑ پائیں گے۔ اس کے بعد نواں موڑ یا دسواں موڑ آپ کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔ یہ اصول ہر حال میں درست ہے، خواہ آپ کا کاغذ پوسٹ کارڈ کے برابر ہو، یا روزانہ اخبار کے برابر، یا کسی بہت بڑے پوسٹر کے برابر۔ ہر حال میں آپ کا موڑ 8 پر جا کر رک جائے گا؛ اس کے آگے وہ نہیں بڑھے گا۔

یہ قانونِ ہشت، یعنی 8 کا قانون ہے۔ یہ فطرت کا قائم کردہ ہے، اس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ اسی طرح، نہ زندگی کے ہر شعبے میں مَعنی قوانین موجود ہیں جو کسی کی سرگرمیوں کو ایک حد پر جا کر روک دیتے ہیں۔ کسی بڑے سے بڑے طاقتور کے لیے بھی اس حد بندی کو توڑنا ممکن نہیں۔

اس دنیا میں ایٹم بم صرف ایک بار گرایا جا سکتا ہے؛ بار بار ایٹم بم گرانا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اس دنیا میں ایک شخص ظالمانہ الفاظ بولنے کے لیے آزاد ہے، مگر اپنے ظالمانہ الفاظ کو واقعہ بنانا اس کے لیے ممکن نہیں۔ کوئی شخص ایک عبادت خانے کو ڈھا سکتا ہے، مگر یہ ممکن نہیں کہ وہ سارے ہی عبادت خانوں کو ڈھا دے۔ ایک شخص منفی نعرے لگا کر اقتدار تک پہنچ سکتا ہے، مگر کوئی بھی اقتدار اس کے لیے کافی نہیں کہ وہ اپنے نعروں کو تاریخ کا درجہ دے دے۔

فطرت کا یہ اٹل قانون اس دنیا میں ہر انسان کے لیے امن اور تحفظ کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ جب تک یہ دنیا موجود ہے، اس کا یہ قانون بھی لازمی طور پر موجود رہے گا۔ فطرت کا یہ قانون صرف اس وقت ختم ہوگا جب کہ خود یہ دنیا ہی ختم ہو جائے، اور کوئی شخص یہاں باقی ہی نہ رہے جو ظالمانہ الفاظ بول کر لوگوں کو ڈرائے، یا مفسدانہ منصوبہ بنا کر لوگوں کے اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا کرے۔ فطرت کا یہ ناقابلِ تغیر قانون اپنی خاموش آواز میں کہہ رہا ہے کہ: اے لوگو، تم اپنے آپ کو خود اپنے ظلم سے بچاؤ، کیونکہ تم سے باہر کوئی بھی نہیں جو تم کو اپنے ظلم و فساد کا نشانہ بنا سکے۔

اسی قانونِ ہشت کو قرآن سورہ نمبر 2 آیت 251، سورہ نمبر 22 آیت 40 میں "قانونِ دفع" کہا گیا ہے، یعنی روک کا قانون، جو ہر چیز کو ایک متعین حد پر رہنے کے لیے مجبور کر دے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 193۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.