Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Maqam-e-Nufuz

Urdu · 3 min

مقامِ نفوذ: مالی کو ایک پودا لگانا تھا، اس نے باغ میں ایک گڑھا کھودا۔ اس کی زمین نرم کرنے کے لیے اس نے گڑھے میں ایک بالٹی پانی ڈالا۔ کچھ دیر کے بعد پانی سوکھ چکا تھا۔ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ یہاں زمین کے نیچے ایک سوراخ تھا۔

اس سوراخ سے سارا پانی نیچے چلا گیا۔ یہ فطرت کا اصول ہے جس کو پانی نے عملی طور پر برت کر دکھایا۔ پانی نے ایسا نہیں کیا کہ وہ گڑھے کی سخت جگہ پر ٹکرا کر وہاں اپنا راستہ بنانے کی کوشش کرے، بلکہ اس نے گڑھے کے اندر اپنے لیے ایک مقامِ نفوذ، یعنی penetration point، تلاش کیا اور وہاں سے راستہ بنا کر اندر داخل ہو گیا۔ فطرت کا یہی اصول انسانی زندگی کے لیے بھی ہے۔

انسانی معاشرے میں جب بھی آپ کو کوئی کام کرنا ہو، خواہ وہ مادی معنوں میں کوئی دنیاوی کام ہو یا اخروی معنی میں دعوت و تبلیغ کا کام، آپ کو سب سے پہلے اپنے ماحول کا مطالعہ کر کے یہ دیکھنا چاہیے کہ آپ کے لیے مقامِ نفوذ کیا ہے۔ وہ کون سا نقطہ ہے جہاں پر عمل کر کے آپ باآسانی اپنے لیے ایک گزرگاہ پا سکتے ہیں؟ جہاں سے اپنے عمل کا آغاز کر کے آپ اپنے لیے مستقبل کی وسیع تر راہیں تلاش کر سکتے ہیں۔ انسان جب بھی کوئی منصوبہ بناتا ہے تو اس کا ایک آخری نشانہ ہوتا ہے۔

مثلاً ایک مکان تعمیر کرنا ہو تو اس کا آخری نشانہ اوپر کی چھت ہوگا۔ لیکن آپ اپنے مکان کی تعمیر اوپر کی چھت سے نہیں کر سکتے۔ آپ کو لازمی طور پر اپنے مکان کا آغاز اس کی بنیاد سے کرنا ہوگا۔ یہی معاملہ تمام انسانی کاموں کا ہے۔

ہر کام کا ایک نقطۂ آغاز ہے، اور دوسرا اس کا نقطۂ اختتام۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دونوں چیزوں کے فرق کو سمجھے۔ وہ اس حقیقت کو جانے کہ ابتدائی مقام سے آغاز کر کے وہ اپنے مطلوب اختتام تک تو پہنچ سکتا ہے، لیکن اگر وہ اپنے منصوبے کے اختتامی نقطے سے آغاز کرنا چاہے تو وہ کہیں بھی نہیں پہنچے گا، خواہ وہ عمل کے نام پر صدیوں تک اپنی کوششیں جاری رکھے۔ یہی اس دنیا کے لیے خدا کا مقرر کیا ہوا قانون ہے۔

عمل کے نقطۂ اختتام کو جاننا جوش ہے، اور عمل کے نقطۂ آغاز کو جاننا ہوش۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 190۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.