حکیمانہ تدبیر: فساد صرف حکیمانہ تدبیروں سے ختم ہوتا ہے، نہ کہ "فساد ختم کرو" کا مطالبہ کرنے سے۔ یہ اصول بلاشبہ 70% درست ہے۔ اس کے سوا فساد کے مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ دو انسانی گروہ جب ایک ساتھ رہیں گے تو عین فطری خانون کے تحت ایسا ہوگا کہ ان کے درمیان بار بار اختلاف اور نزاع کے مواقع پیش آئیں گے۔
مثلاً ایک کا نعرہ دوسرے کو برا لگے گا، ایک گروہ دوسرے گروہ کے عبادت خانے کا وہ احترام نہ کر سکے گا جیسا کہ وہ گروہ کرتا ہے جس کا وہ عبادت خانہ ہے۔ اس طرح کی مختلف صورتیں ہیں جن میں ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے شکایت پیدا ہوگی۔ اس شکایت کا حل جوابی شکایت نہیں ہے؛ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اس کو نظرانداز کیا جائے۔ اختلافی امور میں رواداری اور تحمل کا اصول اختیار کرنا چاہیے، نہ کہ نزاع اور جوابی کارروائی کا۔
ہم فطرت سے لڑ نہیں سکتے، اور اختلافی بات پیش آنے پر ردعمل کا طریقہ اختیار کرنا گویا فطرت سے لڑنا ہے۔ کیونکہ اس طرح کے اختلافات عین فطری اسباب کے تحت پیش آتے ہیں۔ ایسی حالت میں فطرت سے مطابقت مسئلے کا حل ہے۔ فطرت سے ٹکراؤ کبھی مسئلے کا حل نہیں بن سکتا۔
ہر مسئلے کا حل ہے، مگر یہ حل صرف حکیمانہ تدبیر میں ہے۔ اگر ہم ایسا کریں کہ مسئلہ پیش آنے کے بعد ہم جھنجھلاہٹ کا شکار نہ ہوں، بلکہ ٹھنڈے طریقے سے پوری صورتحال پر غور کریں، مسئلے کو صرف مسئلے کی حیثیت سے دیکھیں، اس کو ساکھ اور وقار کا معاملہ نہ بنائیں، تو یقینی ہے کہ ہم ایسی تدبیر دریافت کر لیں گے جس کے ذریعے اس مسئلے کو آسانی کے ساتھ حل کیا جا سکے۔ جب بھی کوئی مسئلہ پیش آئے تو اپنے آپ کو منفی جذبات کا شکار ہونے سے بچائیے۔ اپنے ذہن کو صرف تدبیر ڈھونڈنے میں لگا دیجیے۔
اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ مسئلہ اس طرح حل کر لیا گیا ہے جیسے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 189۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.