بوسٹر کرول: فردوسی کا شاہنامہ فارسی زبان کا ایک مشہور رزمیہ ہے، اس میں ایران کے رستم اور دوسری شخصیتوں کا پرفخر تذکرہ ہے۔ رستم کے سلسلے میں فردوسی نے کہا کہ یہ میں ہوں جس نے رستم کو رستم بنایا، ورنہ وہ ایران کے ایک قصبے کا ایک معمولی پہلوان تھا۔ «منش کردہ ام رستم پہلواں، وگرنہ یل بو درسیستا». فردوسی نے اپنے شعر میں جو بات ذاتی فخر کے طور پر کہی ہے، وہ درحقیقت فطرت کا ایک قانون ہے۔
جس طرح والی بال کے کھیل میں ایک بوسٹر ہوتا ہے، اور ایک وہ جو والی مارتا ہے۔ بوسٹر کا کام ہے بال کو آگے بڑھانا، اور والر کا کام ہے بال کو آگے لے کر والی مارنا۔ اس طرح والی بال کا کھیل جاری رہتا ہے، ٹھیک اسی طرح زندگی کے نظام میں خود خدا کے نقشۂ تخلیق کے مطابق ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کو بڑھاوا دے، اور اس طرح وہ اس کو آگے پہنچا دے۔ یہ اصول اتنا عام ہے کہ پیغمبر تک اس سے مستثنیٰ نہیں۔
مثال کے طور پر حضرت یوسف مصر میں ایک غلام کی حیثیت سے داخل ہوئے، پھر وہ جیل میں پہنچا دیے گئے۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ انہیں مصر کی حکومت میں اعلیٰ ترین منصب حاصل ہو گیا۔ ان کی یہ ترقی اللہ کے منصوبے کے تحت تھی، تاہم ظاہری طور پر مصر کے بادشاہ نے ان کے لیے بوسٹر یعنی بڑھانے والا کا رول ادا کیا۔ یہی بات ہر اس شخص کے سلسلے میں نظر آتی ہے جس کو کسی حیثیت سے کوئی نمایاں مقام حاصل ہوا۔
اس حیثیت سے مطالعہ کیا جائے تو ہر آدمی کے پیچھے کوئی بوسٹر دکھائی دے گا۔ انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی شخصیت ہو جس کے آگے بڑھنے میں کسی بوسٹر کا دخل شامل نہ ہو۔ اس معاملے میں بوسٹر کو کسی تعلی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس کی وجہ سے فلاں شخص آگے بڑھا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بوسٹر اگر غیر جانبدارانہ طور پر غور کرے تو وہ خود بھی پائے گا کہ اس کی اپنی ذات کے معاملے میں بھی کسی بوسٹر کا ہاتھ کام کر رہا ہے۔ بوسٹر کو سمجھنا چاہیے کہ اس نے جو کچھ کیا وہ اس کا ذاتی کارنامہ نہ تھا، بلکہ یہ دراصل خدا تھا جس نے اس کو اپنی ایک منشا کی تکمیل کے لیے استعمال کیا۔ کتاب تعمیر حیات مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 188۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.