Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Masayel aur Mawaqey

Urdu · 3 min

مسائل اور مواقع۔ مسائل کو مستقبل کے خانے میں ڈالنا، اور مواقع کو استعمال کرنا، یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا اصل راز ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ مسائل بھی ہوتے ہیں، اور اسی کے ساتھ مواقع بھی۔ اس دنیا میں صرف وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو مسائل کو نظرانداز کریں اور مواقع کو استعمال کر کے آگے بڑھ جائیں۔

مسائل کا حل مسائل سے لڑنا نہیں ہے، بلکہ مواقع کو استعمال کرنا ہے۔ جب بھی آپ کو مسائل کا سامنا پیش آئے، تو یہ دیکھیے کہ مسائل کے باوجود وہ کون سے امکانات ہیں جو اب بھی آپ کے لیے پوری طرح موجود ہیں، اور جن میں آپ آزادانہ طور پر عمل کر سکتے ہیں۔ ان امکانات کو دریافت کر کے اپنی طاقتوں کو ان میں لگا دیجیے۔ اگر آپ ایسا کریں تو جلد ہی آپ دیکھیں گے کہ امکانات کو استعمال کرنے کے بعد مسائل اپنے آپ حل ہوتے جا رہے ہیں۔

جو کچھ حاصل ہو سکتا ہے، اس کو حاصل کر کے آپ اس کو بھی پا لیتے ہیں جو پہلے آپ کو ملا ہوا نہیں تھا۔ زندگی میں ساری اہمیت عمل کی ہے، اور عمل صرف ممکن دائرے میں کیا جا سکتا ہے۔ ناممکن دائرے میں عمل کرنا کبھی ممکن نہیں ہوتا۔ جب آپ ممکن دائرے میں اپنا عمل شروع کریں، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنی عملی قوتوں کو وہاں لگا رہے ہیں جہاں ان قوتوں کو نتیجہ خیز طور پر لگانا ممکن ہے۔

ایسی محنت کبھی نہ کبھی اپنا نتیجہ ظاہر کر کے رہتی ہے۔ اس کے برعکس، جب آپ مسائل سے الجھیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنی عملی قوت کو وہاں لگا رہے ہیں جہاں عمل کے باوجود کوئی نتیجہ پانا ممکن نہیں۔ ایسی محنت کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ بے فائدہ طور پر رائیگاں ہو کر رہ جائے۔ مسائل بذاتِ خود کوئی چیز نہیں۔

اصل توجہ کی چیز مواقع ہیں۔ مواقع میں توجہ اور محنت صرف کر کے آپ مستقبل میں اپنے مسائل پر بھی قابو پا لیتے ہیں۔ لیکن اگر مسائل میں الجھے رہیں تو دونوں میں سے کوئی چیز بھی آپ کو ملنے والی نہیں۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 183۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.