گر کر اٹھنا نہ گرنا کمال نہیں، کمال یہ ہے کہ تم گرو اور پھر اثر نو اٹھ کر کھڑے ہو جاؤ۔ جو شخص نہیں گرا، اس نے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا۔ کارنامہ انجام دینے والا وہ ہے جو گرے اور پھر اٹھ کر چلنے لگے۔ جو آدمی نہیں گرا، وہ حقیقتاً چلا ہی نہ تھا۔
کیونکہ اس دنیا میں ہر چلنے والا گرتا ہے۔ پھر ایسے نہ گرنے کی کیا قیمت؟ انسان کی شان اسی میں ہے کہ وہ چلے۔ انسان چلنے کے لیے بنایا گیا ہے، وہ بیٹھنے کے لیے نہیں بنایا گیا۔
اور جب وہ چلے گا تو ضروری ہے کہ اس کے ساتھ گرنے کا واقعہ بھی پیش آئے۔ نہ گرنا ٹھہراؤ کی علامت ہے، اور گرنا حرکت اور عمل کی علامت۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے گرنے پر شرمندہ نہ ہو، بلکہ اس کو اپنی اعلیٰ انسانیت کا ثبوت سمجھے کہ اس کے ساتھ گرنے کا واقعہ پیش آیا۔ جب وہ اس طرح سوچے گا تو وہ گرنے کے بعد فوراً اٹھ کر دوبارہ کھڑا ہو جائے گا۔
نہ گرنا کمال نہیں کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ نہ چلنا کمال نہیں۔ اثر نو اٹھنا کمال ہے کا مطلب یہ ہے کہ چلتے رہنا کمال ہے۔ کیونکہ جو شخص ٹھہرا رہے، وہی گرنے سے بچے گا۔ چلنے والوں کا معاملہ اس دنیا میں یہی ہے کہ وہ بار بار گرتے ہیں اور پھر بار بار اٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
آدمی جب گرتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھ کر چلنے لگتا ہے تو وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ گرنا اس کے لیے نئے حوصلے کا ذریعہ بن گیا۔ گر کر اس نے دوبارہ اپنے لیے ایک نئی طاقت حاصل کر لی۔ بیٹھنے کے بجائے چلیے، اور چلنے کے بعد جب گریں تو اٹھ کر کھڑے ہو جائیے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔
آپ اپنے لیے نئی دنیا نہیں بنا سکتے، اس لیے آپ گرنے سے بھی اپنے آپ کو نہیں بچا سکتے۔ کیونکہ دنیا کو بنانے والے نے اس دنیا کو اسی طرح بنایا ہے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 184۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.