اگلا پیراگراف: "زندگی ایک طویل، اکتا دینے والی کہانی ہے؛ اس کہانی کو صرف وہی شخص کامیابی کے ساتھ پڑھ سکتا ہے جس کی توجہ ہمیشہ کہانی کے اگلے پیراگراف پر لگی رہے۔ " ہر آدمی کی زندگی اسی قسم کی ایک کہانی ہے، خواہ وہ چھوٹا آدمی ہو یا بڑا آدمی، خواہ وہ معمولی حالات میں زندگی گزار رہا ہو یا اونچے اور شاندار حالات میں۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی ایک تلخ تجربے کا نام ہے: کھوئے ہوئے مواقع کا افسوس، گزرے ہوئے حادثات کی تلخیاں، لوگوں کی طرف سے پیش آنے والے برے سلوک کی یاد، اپنی کمیوں اور تنگیوں کی شکایت۔ غرض، بے شمار چیزیں ہیں جو آدمی کی سوچ کو منفی رخ کی طرف لے جاتی ہیں۔
آدمی اگر ان باتوں کا اثر لے تو اس کی زندگی ٹھٹر کر رہ جائے گی۔ ایسی حالت میں عقلمندی یہ ہے کہ آدمی پیچھے دیکھنے کے بجائے آگے کی طرف دیکھے؛ وہ گزرے ہوئے دنوں کے بجائے آنے والے دن پر اپنی نظریں جمائے رکھے۔ ہر آدمی اپنے قول و عمل سے اپنی زندگی کی کہانی لکھ رہا ہے، مگر اس کو خود نہیں معلوم کہ اس کہانی میں کون سے مراحل پیش آئیں گے۔ اور نہ کوئی شخص یہ جانتا کہ یہ کہانی کہاں جا کر ختم ہوگی۔
اس لیے لازم ہے کہ آدمی ہر سامنے آنے والے مرحلے کا استقبال کرے: کہانی کے اگلے ابواب لکھنے کی کوشش میں وہ آگے ہی بڑھتا چلا جائے۔ زندگی میں اصل اہمیت یہ نہیں ہے کہ اس نے کیا پایا؛ اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ وہ کیسے جیا۔ یہ ممکن ہے کہ ایک کم آمدنی والا شخص اچھی زندگی گزارے، اور ایک دولت مند آدمی بری زندگی گزار کر مر جائے۔ ایک جاہل آدمی اپنے معاملات میں زیادہ سمجھداری کا ثبوت دے، اور ایک پڑھا لکھا آدمی اپنے معاملات کو سلجھانے میں بے سلیقہ ثابت ہو۔
یہ نہ دیکھے کہ آپ زندگی میں کیا حاصل کر رہے ہیں۔ یہ نہ دیکھیے کہ آپ زندگی میں کیا حاصل کر رہے ہیں؛ یہ دیکھیے کہ آپ زندگی کس طرح گزار رہے ہیں۔ جس شخص کو اچھی زندگی گزارنا آ جائے، وہی وہ شخص ہے جو دنیا میں کامیاب رہا۔ وہی وہ شخص ہے جس نے اپنے آپ کو اپنے مستقبل تک پہنچایا۔
کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 182۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.