دو طریقے۔ اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز یہ ہے کہ ممکن سے اپنے عمل کا آغاز کیا جائے، اور ناکامی کا واحد سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اپنی قوت اور طاقت کو ناممکن کے حصول میں لگا دیا جائے۔ انسانوں کی کامیابی اور ناکامی کی پوری تاریخ انہی دو اصولوں کی تفصیل و تشریح ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ متشددانہ طریقہ کار آدمی کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے، اور پرامن طریقہ کار کامیابی کی طرف۔
متشددانہ طریقہ کار ہمیشہ بے صبری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پرامن طریقہ کار وہ لوگ اختیار کرتے ہیں جو نزاعی معاملات میں صبر و تحمل کا ثبوت دے سکیں۔ امن کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے، اور صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ امن کی طاقت کو کامیاب طور پر استعمال کر سکے۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کیا ہونا چاہیے اور کیا ہو سکتا ہے کے درمیان فرق نہیں کر پاتے۔
وہ اپنی شعوری ناپختگی کی وجہ سے اپنی خواہشوں کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ وہ منزل کی طرف اپنا سفر طے کر رہے ہیں، یہاں تک کہ آخر میں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے صرف وقت ضائع کیا۔ اپنے وقت اور اپنی طاقت کو آخری حد تک استعمال کرنے کے باوجود وہ کچھ بھی حاصل نہ کر سکے۔ انسان پیدائشی طور پر معیار پسند ہوتا ہے۔ ہر آدمی کے ذہن میں ایک معیاری دنیا کا تصور بسا ہوا ہے۔
مگر دوسری ناگزیر حقیقت یہ ہے کہ اس دارالامتحان میں کسی شخص کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی معیاری دنیا کو حاصل کر سکے۔ عملی طور پر ہر چیز ممکن ہے۔ وہ صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے پسندیدہ معیار سے کم کو لینے پر راضی ہو جائے۔ وہ کیا ہونا چاہیے کو چھوڑ کر کیا ہو سکتا ہے کو اپنا عملی نشانہ بنائے۔
جب آپ وہ چیز حاصل کرنا چاہیں جو ممکن نہیں ہے، تو آپ کے اندر جھنجھلاہٹ اور تشدد پیدا ہوگا۔ لیکن جب آپ ممکن کو حاصل کرنے کے لیے اٹھیں، تو آپ کے اندر یقین ہوگا۔ آپ کی جدوجہد پرامن دائرے میں جاری ہوگی۔ پہلی صورت میں آپ کی پوری سوچ منفی سوچ بن جائے گی، اور دوسری صورت میں آپ کی سوچ مثبت سوچ بنے گی۔
اعلیٰ انسانی صفات آپ کے اندر پرورش پائیں گی۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 176۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.