Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Ye Insan

Urdu · 3 min

یہ انسان۔ علامہ شامی نے لکھا ہے کہ کوئی شخص سیادت نہیں کر سکتا جب تک ایسا نہ ہو کہ اس کے کچھ محبین ہوں جو اس کی مدح کریں، اور کچھ حاسدین ہوں جو اس کی مذمت کریں۔ لا يسود سيدٌ بدون ودودٍ يمدحُ، وحسودٍ يقدحُ. حاشیہ ابن عابدین، جلد 1، صفحہ 24۔

اصل یہ ہے کہ دنیا دارالامتحان ہے۔ اس دنیا میں جو واقعہ ہوتا ہے، اس میں امتحان کی مصلحت لازمی طور پر شامل رہتی ہے۔ یہی معاملہ کسی صاحبِ سیادت شخص کا ابھرنا ہے۔ ایک سچا انسان جب اللہ کی توفیق سے سیادت و قیادت کے میدان میں ابھرتا ہے تو وہ پورے معاشرے کے لیے امتحان کا ایک پرچہ بن جاتا ہے۔

اب جو لوگ طالبِ حق ہیں، جن کے اندر سچائی کو پانے کی خواہش موجود ہے، جو حق کو سب سے بڑا درجہ دیے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ اپنی ذات سے بھی زیادہ، وہ پیشگی طور پر نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ وہ ابھرنے والے قائد کو اپنے دل کی آواز سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے درمیان وہ محبوب کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ وہ دل سے اس کا اعتراف کرتے ہیں۔

وہ اس کو دعائیں دیتے ہیں۔ وہ اپنے بہترین الفاظ اور بہترین جذبات اس کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنی ذاتی بڑائی میں جی رہے ہوں، جو حق کے طالب نہ ہوں بلکہ اپنی خواہشِ نفس کے طالب ہوں۔ ایسے لوگ جب کسی کو ابھرتا ہوا دیکھتے ہیں تو وہ فوراً حسد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

وہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ اس شخص کے قد کا بڑھنا گویا میرے قد کا چھوٹا ہونا ہے۔ یہ لوگ حسد کی آگ میں بھڑک اٹھتے ہیں۔ وہ اپنے دائرے سے باہر ابھرنے والے شخص کی مذمت پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ وہ اس کے خلاف جھوٹے الزام لگاتے ہیں۔

وہ اس کو نیچا دکھانے کے لیے ہر وہ پست حرکت کرنے پر تل جاتے ہیں جو ان کے بس میں ہو۔ ہر صاحبِ سیادت آدمی ایک امتحان ہے۔ اس امتحان میں ایک قسم کے لوگ کامیاب ہوتے ہیں اور دوسری قسم کے لوگ ناکام۔ کتاب "تعمیر حیات"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 175۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.