انتقام نہیں، انتقام لینے سے پہلے سوچ لو کہ انتقام کا بھی انتقام لیا جائے گا۔ یہ زندگی کی ایک اہم حقیقت ہے، اور جو شخص موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی گزارنا چاہتا ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اس حقیقت کا پورا لحاظ کرے۔ ایک شخص سے آپ کو تکلیف پہنچی، آپ کے دل میں اس کے خلاف انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھا۔ آپ چاہنے لگے کہ اس سے بدلہ لے کر اپنے سینے کی آگ ٹھنڈی کریں۔
مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک شخص کے تکلیف دینے سے آپ کے اندر انتقام کا جذبہ پیدا ہو گیا۔ پھر وہی تکلیف جب آپ دوسرے آدمی کو دیں گے تو کیا اس کے اندر دوبارہ وہی انتقامی جذبہ نہیں پیدا ہو جائے گا؟ یقیناً ایسا ہی ہو گا۔ آپ کے انتقام کے بعد وہ بھی انتقام لے گا۔
اس طرح برائی کا ایک چکر چل پڑے گا۔ آپ کو ایک تکلیف کے بعد دوسری تکلیف سہنی پڑے گی۔ اس لیے عقلمندی یہ ہے کہ نظرانداز کرنے کا طریقہ اپنا کر بات کو پہلے ہی مرحلے میں ختم کر دیا جائے۔ جب آپ کسی سے انتقام لیں تو یہ کوئی سادہ بات نہیں ہوتی۔
انتقام لینے کے لیے آپ کو اپنی طاقت خرچ کرنی پڑتی ہے۔ وقت اور پیسے کی کافی مقدار خرچ کیے بغیر کوئی شخص کسی دوسرے آدمی سے انتقام نہیں لے سکتا۔ اب اگر انتقام لینے والا اپنے انتقام کے منصوبے میں کامیاب ہو جائے، تب بھی یہ اپنا کچھ اور اثاثہ کھونے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ انتقام لے کر آدمی آخر میں جو چیز پاتا ہے، وہ صرف ایک نفسیاتی تسکین ہے۔
اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ لیکن اسی وقت، اور اس رقم کو اگر کسی مثبت کام یعنی مثلاً کاروبار میں لگایا جائے تو وہ شکل بدل کر محفوظ رہتا ہے۔ یہاں تک کہ مزید نفع کے ساتھ آدمی کی طرف لوٹتا ہے۔ انتقام لینے میں طاقت لگانا، طاقت کو کھونا ہے۔
مثبت کام میں طاقت لگانا، طاقت کو اضافے کے ساتھ دوبارہ پا لینا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو اپنا اثاثہ پانے کی مد میں خرچ کرنا چاہیے، نہ کہ کھونے کی مد میں۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 177۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.