ایک کہاوت جاپان کی ایک کہاوت ہے جس کا ترجمہ انگریزی زبان میں اس طرح کیا گیا ہے: "ایک خرگوش کا پیچھا کرو اور تم اس کو پکڑ لو گے"۔ Chase one rabbit and you will get it. اگر آپ بیک وقت دو خرگوش کو پکڑنا چاہیں تو کیا ہوگا؟ ایک خرگوش پورب کی طرف بھاگ رہا ہوگا اور دوسرا خرگوش پچھم کی طرف۔
آپ کبھی ایک کو پکڑنے کے لیے پورب کی طرف دوڑیں گے اور کبھی دوسرے کو پکڑنے کے لیے پچھم کی طرف۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ دونوں بھاگ کر دور چلے جائیں گے اور آپ دونوں میں سے ایک کو بھی نہ پکڑ سکیں گے۔ اس کے برعکس، جب آپ صرف ایک کی طرف دوڑیں تو آپ کی دوڑنے کی پوری طاقت صرف ایک کی طرف استعمال ہوگی، اور پھر آپ اس کو پکڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہ معاملہ صرف خرگوش کا نہیں، بلکہ یہی معاملہ تمام چیزوں کا ہے۔
زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو بظاہر کئی چیزیں دکھائی دیتی ہیں، وہ ہر ایک کو چاہنے لگتا ہے، مگر کئی کو پانے کی کوشش میں وہ ایک کو بھی کھو دیتا ہے۔ حالانکہ اگر وہ اپنی ساری توجہ صرف ایک پر لگاتا تو یقیناً وہ اس کو حاصل کر لیتا۔ اس کی ایک مثال کشمیر کا مسئلہ ہے۔ انڈیا اور پاکستان کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہوئی۔
اس اعتبار سے کشمیر کو پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا، کیونکہ کشمیر میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی۔ اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ کشمیر پاکستان کو نہ مل سکا؟ اس کی واحد ذمہ داری پاکستان کے لیڈروں پر جاتی ہے۔ 1947 میں جب برصغیر ہند کی تقسیم ہوئی تو پاکستان لیڈروں نے چاہا کہ وہ حیدرآباد پر بھی قبضہ کریں اور کشمیر پر بھی۔
حیدرآباد پر اس لیے کہ وہاں کا صدر ریاست مسلمان ہے، کشمیر پر اس لیے کہ وہاں کی زیادہ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ وہ حیدرآباد کے معاملے میں صدر ریاست کی منطق کو استعمال کرنا چاہتے تھے اور کشمیر کے معاملے میں آبادی کی منطق کو۔ یہ گویا دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑنا تھا۔ اور جو لوگ بیک وقت دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑیں، ان کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ ایک کو بھی نہ پکڑ سکیں۔
کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 169۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.