شام کے بعد صبح۔ ایک شخص نے کہا کہ شام ہو گئی، دوسرا شخص بولا: یوں کہو کہ صبح آنے والی ہے۔ اگر آپ معاملات کو حال کے اعتبار سے دیکھیں تو بظاہر آپ کو تاریکی دکھائی دے گی، لیکن اگر آپ معاملے کو مستقبل کے اعتبار سے دیکھیں تو سامنے کے افق پر روشنی ابھرتی ہوئی نظر آنے لگے گی۔ بیشتر لوگوں کی نظر اپنے آج پر ہوتی ہے، اس لیے اگر ان کے آج کے حالات اچھے نہ ہوں تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ انہیں اچھی زندگی حاصل نہیں۔
حالانکہ عقلمندی کی بات یہ ہے کہ آنے والے کل پر نظر رکھی جائے۔ تجربات بتاتے ہیں کہ اکثر آنے والا کل ایسے مواقع لے کر آتا ہے جس کو اس سے پہلے آدمی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ زمین ہر لمحہ گھوم رہی ہے۔ زمین کے اوپر بار بار شام بھی آتی ہے اور صبح بھی طلوع ہوتی ہے۔
جن لوگوں کی نظر صرف قریب پر ہو، وہ جب شام کو دیکھیں گے تو کہہ دیں گے کہ اب تو زندگی کی شام آ گئی۔ مگر جو لوگ دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ شام کو شام کے اعتبار سے نہ دیکھو، اس کو اس نظر سے دیکھو کہ وہ آنے والی صبح کی تمہید ہے۔ زندگی میں جب بھی کوئی ناموافق صورتحال پیش آئے تو وہ ایک نئی موافق صورتحال کی تمہید ہوتی ہے۔ وہ ایک نئے مستقبل کی خبر دیتی ہے۔
آدمی کو چاہیے کہ وہ مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے اپنے ذہن کو استعمال کرے۔ وہ اپنی سوچ کو حرکت میں لا کر آگے بڑھ جائے۔ اس دنیا میں آدمی جو کچھ پاتا ہے، اس سے بہت زیادہ وہ ہے جس کو اس نے نہیں پایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑے کو کھو کر زیادہ کو پانے کا موقع پھر بھی آدمی کے لیے باقی رہتا ہے۔
آدمی ذرے کو کھو کر افسوس کرتا ہے، حالانکہ ابھی پورا پہاڑ اس کے حوصلوں کے امتحان کے لیے موجود ہے۔ وہ ایک قطرے سے محرومی پر فریاد کرتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ ابھی تو خدا کی دنیا میں پورا سمندر باقی ہے، جس کو پانے کے لیے وہ عصر نو اپنی کوششوں کو جاری کر سکے۔ دنیا میں کوئی کھونا آخری کھونا نہیں۔
ہر کھونے کے بعد پانے کا نیا امکان آدمی کے لیے موجود رہتا ہے۔ عقلمند وہ ہے جو کھونے کو بھلا دے۔ وہ ہمیشہ پانے کی طرف دیکھتا رہے۔ کتاب تعمیر حیات، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 157۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.