Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Mohabbat Fateh-e-Alam

Urdu · 3 min

محبت فاتحِ عالم ایک انسانی مجسمے کے سامنے کھڑے ہو کر آپ اس کو سخت الفاظ میں خطاب کریں، یا اس کے سامنے محبت کے الفاظ بولیں، دونوں حالتوں میں وہ کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کرے گا۔ وہ نہ آپ کی سخت کلامی پر برہم ہوگا اور نہ آپ کی نرم کلامی پر خوشی کا اظہار کرے گا۔ مگر ایک زندہ انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے؛ وہ سخت کلامی پر غصہ ہوتا ہے اور میٹھے بول کو سن کر نرم پڑ جاتا ہے۔ سماجی زندگی کے بیشتر واقعات اسی انسانی صفت کا اظہار ہیں۔

جب آپ ایک آدمی کے ساتھ سخت کلامی کرتے ہیں تو وہ آپ کا دشمن بن جاتا ہے، وہ آپ کے خلاف انتقام کا منصوبہ بناتا ہے۔ لیکن اسی محبت سے، لیکن اسی آدمی سے محبت کے انداز میں بات کیجیے تو وہ آپ کا دوست بن جائے گا۔ ایک قسم کا کلام لوگوں کو آپ سے دور کر دینے والا ہے، اور دوسری قسم کا کلام لوگوں کو آپ سے قریب کر دینے والا۔ سماجی زندگی کو کامیاب بنانے کا یہ سب سے زیادہ آزمایا ہوا نسخہ ہے۔

اگر آپ سماج کے اندر باعزت زندگی گزارنا چاہتے ہیں، اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کے خلاف رکاوٹ نہ بنیں بلکہ وہ آپ کے مددگار بن جائیں، تو صرف ایک اصول کو اپنی زندگی میں اختیار کر لیجیے: وہ ہر ایک کے ساتھ نرمی اور محبت کے ساتھ پیش آنا۔ یہ اصول تباہ کن حد تک غلط ہے کہ نرمی کرنے والوں کے ساتھ نرمی اور سختی کرنے والوں کے ساتھ سختی۔ اس کے برعکس صحیح اصول یہ ہے کہ نرمی کرنے والوں کے ساتھ بھی نرمی، اور جو لوگ سختی کریں ان کے ساتھ بھی نرمی۔ اگر کوئی شخص کسی وجہ سے آپ کے خلاف برہم ہو جائے تو آپ اس کے ساتھ جوابی برہمی نہ دکھائیں، بلکہ اس کے برے سلوک کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔

اس کے کڑوے بول کا جواب میٹھے بول سے دیں۔ اگر وہ آپ کو نقصان پہنچائے تب بھی آپ اس کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ جو آدمی بظاہر آپ کا دشمن دکھائی دیتا تھا، وہ آپ کا قریبی دوست بن گیا۔ کتاب: تعمیرِ حیات، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 155۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.