Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Teen Minute

Urdu · 3 min

3 منٹ۔ سید امتیاز الدین دَسْنَوی ایک انجینئر ہیں، 1967 میں وہ سروس کے تحت ضلع پونے کی ایک بستی لونولا میں تھے۔ ایک روز، جبکہ وہ وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ مسجد میں تراویح کی نماز پڑھ رہے تھے، سڑک پر شور و غل کی آواز آئی۔ ہندوؤں کا ایک جلوس مسجد سے ملی ہوئی سڑک سے گزر رہا تھا۔

مسجد کے سامنے پہنچ کر وہ لوگ ٹھہر گئے اور زور زور سے باجا بجانے لگے۔ تراویح میں ہر دو رکعت پر سلام پھیرا جاتا ہے، چنانچہ امام صاحب نے جب دو رکعت پوری کر کے "السلام علیکم ورحمۃ اللہ" کہا تو اچانک نمازی غصہ ہو گئے۔ کچھ لوگ اٹھنے لگے کہ جا کر جلوس والوں سے کہیں کہ مسجد ہے، یہاں شور نہ کرو، آگے جاؤ۔ سید امتیاز الدین صاحب نے کہا کہ چند منٹ بیٹھ کر آپ ذکر کر لیجیے، یہ لوگ اپنے آپ یہاں سے چلے جائیں گے۔

چنانچہ تمام نمازی خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔ 20 مارچ 1994 کی ملاقات میں سید تمیز الدین صاحب نے بتایا کہ مشکل سے 3 منٹ گزرے ہوں گے کہ آواز کم ہونے لگی اور تھوڑی دیر میں بالکل ختم ہو گئی۔ جلوس صرف 3 منٹ مسجد کے سامنے ٹھہرا، اور اس کے بعد وہ اپنے آپ ہی آگے چلا گیا۔ اس کے برعکس اگر کچھ مسلمان سڑک پر آ کر روک ٹوک کرتے تو وہ لوگ ضد میں پڑ جاتے۔

اب دونوں طرف سے اصرار بڑھتا، یہاں تک کہ جلوس کا مسئلہ دونوں کے لیے وقار کا مسئلہ بن جاتا۔ اس کے بعد معاملہ اور آگے بڑھتا، اور آخر کار وہ چیز ظہور میں آ جاتی جس کو فرقہ وارانہ فساد کہا جاتا ہے۔ ایک طرف مسجد کی تراویح ادھوری رہ جاتی، دوسری طرف بستی آگ اور خون کے طوفان میں نہا اٹھتی۔ اسی قسم کا برعکس واقعہ 1980 میں مراد آباد میں پیش آ چکا ہے۔

رمضان کے مہینے میں غیر مسلموں کا جلوس مسجد کے سامنے آ گیا اور باجا بجانے لگا۔ مسجد میں جو مسلمان نماز کے لیے جمع تھے، وہ 3 منٹ کے صبر پر راضی نہیں ہوئے۔ باہر نکل کر انہوں نے جلوس کو روکنا شروع کیا۔ اس کا انجام مراد آباد کو بھیانک فساد کی صورت میں برداشت کرنا پڑا۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امن اور فساد کے درمیان صرف 3 منٹ کا فاصلہ ہے۔ اگر آپ 3 منٹ کے اشتعال کو برداشت کر لیں تو ہر طرف امن ہی امن ہوگا، اور اگر آپ 3 منٹ کے اشتعال کو برداشت نہ کریں تو ہر طرف فساد ہی فساد۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 140۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.