← Tameer-e-HayatTameer-e-Hayat
Aag thandi hogai
Urdu · 4 min
آگ ٹھنڈی ہو گئی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے کانفرنس ہال میں، 8 فروری 1993 کو ایک سیمینار تھا۔ یہ سیمینار ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سٹڈیز کے تحت کیا گیا تھا۔ اس کا موضوع تھا "مذہب اور انسان دوستی"۔
اس موقع پر جن لوگوں نے تقریریں کیں، ان میں سے ایک ڈاکٹر بشنبھر ناتھ پانڈے بھی تھے۔ ڈاکٹر پانڈے نے اپنی تقریر میں کچھ واقعات سنائے۔ ان میں سے ایک واقعہ یہ تھا کہ بالا گھاٹ، مدھیہ پردیش میں 1926 میں ہندوؤں کا ایک جلوس نکالا گیا۔ اس جلوس کی قیادت سوامی ستیہ دیو کر رہے تھے۔
ان لوگوں کا منصوبہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو بھڑکا کر شہر میں فرقہ وارانہ فساد کریں۔ یہ جلوس خصوصاً جمعہ کے دن نکالا گیا۔ تقریباً 10,000 ہندو باجا بجاتے ہوئے اور نعرہ لگاتے ہوئے عین جمعہ کی نماز کے وقت مسجد کے سامنے پہنچے، اور وہاں ٹھہر کر شور و غل کرنے لگے۔ کرامت حسین صاحب شہر کے ایک معروف سیاسی کارکن تھے۔
ان کو پہلے سے مذکورہ منصوبے کا حال معلوم ہو گیا تھا۔ چنانچہ وہ اپنے سو ساتھیوں کو لے کر مسجد سے— چنانچہ وہ اپنے سو ساتھیوں کو لے کر پہلے سے اس مسجد میں آ گئے تھے۔ انہوں نے پیشگی طور پر اپنے ہر ساتھی کو پھولوں کا ایک ایک ہار دے دیا تھا۔ جب جلوس مسجد کے سامنے آ کر ٹھہر گیا تو انہوں نے عام مسلمانوں سے کہا کہ آپ لوگ بالکل خاموش رہیں۔
اس کے بعد کرامت حسین صاحب سوچے سمجھے نقشے کے مطابق اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مسجد سے نکل کر سڑک پر آئے۔ ان لوگوں نے جلوس سے نہ روٹ بدلنے کی بات کی اور نہ نعرہ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کا سواگت کرتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ جلوس کے سامنے آ گئے اور ایک ایک ہندو کو ہار پہنانا شروع کیا۔
اس کے بعد پوری فضا بدل گئی۔ جلوس کے لوگوں کے سر شرم سے جھک گئے۔ ان کے نعرے اپنے آپ بند ہو گئے۔ جو لوگ مرنے مارنے کے ارادے سے آئے تھے، وہ مسلمانوں سے گلے ملنے لگے۔
دشمنی کا ماحول اچانک دوستی کے ماحول میں تبدیل ہو گیا۔ ہر انسان انسان ہے۔ کوئی انسان جب کسی دوسرے انسان کا دشمن بنتا ہے تو وہ محض وقتی اشتعال کے تحت ہوتا ہے۔ اگر حکمت کے ساتھ اس وقتی آگ کو ٹھنڈا کر دیا جائے تو اس کے بعد انسان اپنی اصل فطرت پر لوٹ آئے گا، اور پھر وہی انسان آپ کا دوست بن جائے گا جو وقتی طور پر بظاہر آپ کا دشمن دکھائی دینے لگا تھا۔
کتاب "تعمیر حیات"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 138۔