← Tameer-e-HayatTameer-e-Hayat
Sabr ka Karishma
Urdu · 6 min
صبر کا کرشمہ۔ 23 جولائی 1993 کو میں نے جمعہ کی نماز دہلی کی مسجد سنگ تراشاں پہاڑ گنج میں پڑھی۔ اس مسجد کے چاروں طرف 7% ہندوؤں کی آبادی ہے، 1947 کے بعد یہ مسجد بند ہو گئی تھی۔ یہاں محلے کے لوگ کوڑا ڈالا کرتے تھے۔
1982 میں دہلی کے ایک مسلمان، جناب محمد سعید بلالی، پیدائش 1953، کو خیال ہوا کہ اس مسجد کو واگزار کیا جائے۔ انہوں نے کوشش کر کے اس مسجد کو کھلوایا، اس کی صفائی اور مرمت کرائی۔ اب سوال یہ تھا کہ اس کو آباد کس طرح کیا جائے، کیونکہ یہاں قریب میں کوئی مسلمان نہیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک استاد رکھ کر یہاں ایک مدرسہ قائم کر دیا۔
دو درجن مسلمان بچے یہاں رہنے اور پڑھنے لگے۔ اس طرح یہاں پنج وقتہ نماز قائم ہو گئی۔ محمود سعید بلالی صاحب نے اپنے واقف کاروں کے حلقے میں اس مسجد کے بارے میں بتایا تو جمعہ کے دن کافی لوگ یہاں آنے لگے، یہاں تک کہ مسجد نمازیوں سے بھر جاتی تھی۔ بلالی صاحب نے طلبہ اور نمازیوں کی سہولت کے لیے یہ منصوبہ بنایا کہ صحن کے نصف حصے میں چھت ڈال کر ایک سائبان بنا دیا جائے۔
انہوں نے کام شروع کرا دیا، سانچہ بن گیا اور اس پر چھت کی تعمیر کی جانے لگی۔ یہ 19 مارچ 1991 کا واقعہ ہے۔ اچانک تقریباً 150 ہندو جمع ہو گئے، جن میں زیادہ تر نوجوان تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چھت بننے نہیں دیں گے، تم اس چھت کو اتارو ورنہ یہاں خون ہو جائے گا اور تمہاری مسجد بھی باقی نہیں رہے گی۔
ایک طالب علم نے پولیس اسٹیشن جا کر انہیں خبر کر دی۔ اس کے بعد بڑی تعداد میں پولیس آ گئی۔ ان میں پولیس افسران بھی تھے۔ پولیس نے موقع کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ یہ تعمیر قانون کے دائرے میں ہو رہی ہے، اس لیے کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔
پولیس نے مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ چھت بناؤ، ہم یہاں کھڑے ہوئے ہیں۔ محمود سعید بلالی نے سوچا کہ اگر میں پولیس کے کہنے سے چھت کا کام جاری رکھوں تو یہ پولیس والے یہاں کب تک میری حفاظت کریں گے؟ آخر کار تو سابقہ انہی پڑوس کے ہندوؤں سے رہے گا، اور وہ چھت تو کیا، مسجد بھی توڑ کر رکھ دیں گے اور کوئی انہیں روک نہ سکے گا۔ بلالی صاحب انہی خیالات میں تھے کہ ہندو مجمعے میں سے ایک بوڑھا آدمی آگے آیا۔
اس نے کہا کہ میاں جی، اس وقت یہ لوگ بہت جوش میں ہیں، وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں، تم ضد نہ کرو اور اپنی چھت اتار دو۔ بلالی صاحب نے فوراً اس کو استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑے میاں جس طرح تمہارے بڑے ہیں، اسی طرح وہ میرے بھی بڑے ہیں۔ میں ان کی بات مانتا ہوں۔
اور اسی وقت اپنے مزدوروں سے کہہ دیا۔ اور اسی وقت اپنے مزدوروں سے کہہ دیا کہ چھت اتار دو۔ چنانچہ چھت اتار دی گئی۔ اس وقت تک اس چھت پر 25,000 روپے خرچ ہو چکے تھے۔
اس علاقے کا اس واقعے کا علاقے کے تمام ہندوؤں پر بہت اچھا اثر پڑا۔ سب کے سب مسجد اور مسجد والوں کے ہمدرد بن گئے۔ اب یہاں لاؤڈ اسپیکر کی اذان کے ساتھ پنج وقتہ نماز ہوتی ہے۔ باقاعدہ جمعہ ہوتا ہے۔
اسلامی تعلیم کا ایک مدرسہ چل رہا ہے۔ رمضان میں شاندار تراویح ہوتی ہے وغیرہ۔ مگر ہندوؤں کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں۔ وہ لوگ اکثر کہتے رہتے ہیں کہ آپ کی کوئی ضرورت ہو تو ہم کو بتائیے۔
اگر کوئی ہندو آپ کو پریشان کرے تو فوراً ہم کو بتائیے، ہم اس سے نمٹ لیں گے۔ 6 دسمبر 1992 کو جب یہ خبر پھیلی کہ اَجودھیا کی بابری مسجد توڑ دی گئی، ساری دہلی میں تناؤ کی صورت پیدا ہو گئی۔ کئی جگہ ہندو مسلم فسادات بھی ہوئے۔ اس علاقے میں بھی تناؤ کی حالت تھی، جبکہ اس وقت جبکہ اس وقت مسجد میں 23 مسلم بچے موجود تھے۔
محمود سعید بلالی صاحب اس وقت جامعہ مسجد کے علاقے میں تھے اور کچھ کر نہیں سکتے تھے، مگر پڑوس کے ہندو ان کا بدل بن گئے۔ وہ خود مسجد میں آئے، بچوں کو لے جا کر ایک قریبی اسکول میں رکھا۔ ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا، اور پھر تمام بچوں کو حفاظت کے ساتھ ان کے گھروں تک پہنچایا۔ بلالی صاحب اگر ضد کرتے اور اکڑ دکھاتے تو دوسری طرف بھی ضد اور اکڑ پیدا ہو جاتی پیدا ہوتی، اور پھر فساد برپا ہو جاتا۔
مگر جب انہوں نے نرمی اور تواضع کا انداز اختیار کیا تو دوسری جانب بھی نرمی اور تواضع پیدا ہو گئی۔ اس کے بعد فساد کا ماحول امن کے ماحول میں تبدیل ہو گیا۔ کتاب تعمیر حیات مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 136۔