Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Kamaal paida kijiye

Urdu · 3 min

کمال پیدا کیجیے۔ 25 مارچ 1992 کو ملبورن میں ورلڈ کرکٹ کپ کا فائنل مقابلہ تھا۔ پاکستان کی ٹیم نے انگلینڈ کی ٹیم کو ہرا کر ورلڈ کپ جیت لیا۔ پاکستان کی ٹیم کو یہ غیر معمولی کامیابی اس کی ٹیم کے کیپٹن عمران خان کی قیادت کے تحت حاصل ہوئی۔

اس کے بعد نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا سے عمران خان کے لیے مبارکباد کے پیغامات کا سیلاب امڈ پڑا۔ ٹائمز آف انڈیا 26 مارچ نے اس خبر کی سرخی ان الفاظ میں قائم کی: "Pakistan rule the world with a flawless display. " اس سلسلے میں ہندوستان کے مشہور کھلاڑی مسٹر منوج پربھاکر کا انٹرویو اخباروں میں شائع ہوا ہے۔ اس کو ویڈیو میگزین اسپورٹس چینل نے ریکارڈ کیا تھا۔

مسٹر پربھاکر نے کہا: "India needed an Imran Khan-like captain to motivate the team. I think there should be some gap—like age between the team and captain. You can see the way Imran is doing his job; he is marvelous. We need that type of captain who can be a good leader.

That is what we need. Otherwise, we have the best team. " انڈیا کو عمران خان جیسے ایک کیپٹن کی ضرورت ہے، جو ہماری ٹیم کو متحرک کرے۔ میرا خیال ہے کہ ٹیم اور کیپٹن میں عمر کی طرح کچھ فرق ہونا چاہیے۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عمران کس طرح اپنا کام کر رہے ہیں۔ وہ ایک حیرت انگیز شخص ہیں۔ ہم کو اس قسم کے کیپٹن کی ضرورت ہے جو ایک اچھا قائد بن سکے۔ یہ ہے وہ چیز جس کی ہمیں ضرورت ہے، ورنہ ہمارے پاس بہترین ٹیم ہے۔

ٹائمز آف انڈیا، ہندوستان ٹائمز، 26 مارچ 1992۔ انسان کمال کو پسند کرتا ہے۔ کوئی شخص کمال کا مظاہرہ کرے تو دیکھنے والا اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ کمال موافقت اور مخالفت سے بلند ہو کر اپنے آپ کو منوا لیتا ہے۔

کسی بھی میدان میں اگر آپ کمال پیدا کر لیں تو انسان آپ کی قدردانی اور اعتراف پر مجبور ہو جائے گا، خواہ بظاہر آپ غیر قوم کے فرد کیوں نہ ہوں۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 132۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.