ایک دن دہلی میں مہر ولی کے علاقے میں، ایک اسلامی ادارہ "مدرسہ اسلامیہ عربیہ فیض القرآن" کے نام سے ہے، اس کو مولانا محمد طلحہ صاحب اور مولانا بشیر احمد راشد المینی نے 1992 میں قائم کیا تھا۔ 14- 24 جولائی 1994 کو اس کا پہلا دینی تعلیمی جلسہ ہوا۔ اس کے مہمانِ خصوصی مولانا محمد صدیق بانوی 1923 تا 1997 تھے، اس کی دعوت پر راقم الحروف نے بھی اس میں شرکت کی۔ نظام الدین سے روانہ ہو کر ہم دہلی کے مختلف حصوں سے گزرے۔
جب ہم مہر ولی میں داخل ہوئے تو قطب مینار پر نظر پڑی، جو اس علاقے کی سب سے بلند عمارت کے طور پر دور دور سے دکھائی دیتا ہے۔ قطب مینار تیرہویں صدی عیسوی میں قطب الدین ایبک نے بنوایا تھا۔ اس کی بابت تاریخ میں یہ الفاظ درج ہیں کہ دہلی کا قطب مینار ابھی تک قطب الدین ایبک کی فتوحات کی یاد دلاتا ہے۔ The Qutub Minar in Delhi still stands to commemorate his victories.
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، والیوم 8، پیج 362۔ مگر اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ یہ مینار اپنی بلندیوں کے ساتھ اس سے بھی زیادہ بڑی ایک حقیقت کی یادگار ہے، اور وہ یہ کہ کامیابی عمل سے ملتی ہے، نہ کہ پیدائش سے۔ قطب الدین ایبک ابتدا میں ایک غلام کی حیثیت سے محمد غوری کی ملازمت میں آیا، اس کے بعد اپنی ممتاز کارکردگی کی بنا پر اس نے ترقی شروع کی، یہاں تک کہ سلطان محمد غوری کے قتل 1206 عیسوی کے بعد وہ اس کا جانشین بنا، اور پھر اپنی حکیمانہ تدبیروں سے وہ دہلی کی سلطنت کا مالک بن گیا۔ اگرچہ وہ زیادہ دنوں تک حکومت نہ کر سکا، گھوڑوں کے ایک کھیل میں وہ شدید طور پر زخمی ہو گیا، اسی میں 1210 عیسوی میں اس کا انتقال ہو گیا۔
اس دنیا میں کامیابی کے امکانات بے شمار ہیں۔ یہاں ایک معمولی انسان بھی بادشاہ کے درجے تک پہنچ سکتا ہے، شرط صرف یہ ہے کہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو حکیمانہ طور پر استعمال کرے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 131۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.