Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Khudkushi ki Chalaang

Urdu · 4 min

خودکشی کی چھلانگ: دہلی کے روزنامہ ہندوستان ٹائمز، 17 نومبر 1995 کے پہلے صفحے پر ایک باطسویر کہانی چھپی ہے۔ یہ ایک مردے کی کہانی ہے جو زندہ لوگوں کو دردناک سبق دے رہی ہے۔ دہلی کے مسٹر ایم این ارورا کی 20 سالہ بھتیجی، ساریکا ہورا، پونے میں انجینئرنگ کے تیسرے سال کی اسٹوڈنٹ تھی۔ اکتوبر 1995 میں وہ اپنی فیملی کے ساتھ دیوالی منانے کے لیے دہلی آئی۔

27 اکتوبر کو نظام الدین ریلوے اسٹیشن سے وہ گووا ایکسپریس پر سوار ہوئی تاکہ پونا پہنچ کر وہ دوبارہ اپنے اکیڈمک سیشن میں شامل ہو سکے۔ ریلوے اسٹیشن پر اس کے گھر والوں نے اس کو رخصت کیا۔ وہ اپنے ایک ساتھی، طالب علم کے ہمراہ، نہایت خوش و خرم اپنی منزل کی طرف جا رہی تھی۔ اس ٹرین کے ہر دو ڈبے کے درمیان اندرونی گزرگاہ بنی ہوئی تھی۔

ٹرین گوالیار اور جھانسی کے درمیان تھی کہ پرشوخ لڑکی اٹھی تاکہ ایک کوچ سے دوسری کوچ میں جا سکے۔ وہ کوچ کی دہلیز، یعنی ویسٹریبیول، میں پہنچی۔ یہاں قاعدے کے مطابق دونوں کوچ کے درمیان گزرنے کی پلیٹ، یعنی سٹیپنگ پلیٹ، ہونی چاہیے تھی۔ مگر کسی وجہ سے وہ وہاں موجود نہ تھی۔

لڑکی نے اس کی پرواہ نہ کی۔ اس نے چاہا کہ قدم بڑھا کر وہ اس کوچ سے اس کوچ میں پہنچ جائے، مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کا پاؤں اگلی کوچ تک پہنچنے کے بجائے درمیان کی خالی جگہ پر گر گیا۔ اس کا پاؤں اگلی کوچ تک پہنچنے کے بجائے درمیان کی خالی جگہ پر پڑ گیا۔

اچانک وہ تیز دوڑتی ہوئی ریل کے نیچے چلی گئی، اور سیکنڈوں میں اس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ یہ صرف ریل کے سفر کی بات نہیں، زندگی کے وسیع تر سفر میں بھی بار بار ایسے مواقع آتے ہیں، جبکہ ہمیں ایک حالت سے دوسری حالت تک پہنچنے کے لیے کسی گزرنے والی پلیٹ، یعنی سٹیپنگ پلیٹ، کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے موقع پر سب سے پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ ٹھہر کر دیکھا جائے کہ ہمارے لیے فی الواقع کوئی قابلِ اعتماد پلیٹ موجود ہے جس سے گزر کر ہم آگے کی طرف جا سکیں۔ ایسی قدم گاہ کی غیر موجودگی میں گزرنے کی کوشش کرنا خود کی چھلانگ، خودکشی کی چھلانگ لگانا ہے، نہ کہ ترقی اور کامیابی کی طرف اپنا سفر طے کرنا۔

کیا کوئی سبق لینے والا ہے جو اس واقعے سے سبق لے؟ کتاب: تعمیر حیات، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 130۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.